• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 48308

    عنوان: فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا

    سوال: کیا فر ما تے ہیں مفتیا ن عظا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ فر ض نما ز و ں کے بعد اجتما عی دعا (اما م کے سا تھ)سنت ہے یا بد عت ہمارے علا قہ میں بعض حضرات اس کو بد عت کہتے ہیں اور مفتی رشید احمد کے فتو ی کا حوالہ دیتے ہیں۔ براہ کرم مفصل و مد لل جواب عنا یت فر ما کر نا چیز کی تشفی فر ما ئیں جزاکم اللہ خیرو احسن الجزاء

    جواب نمبر: 48308

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1398-453/L=11/1434-U نفس دعا مطلقاً مامور بہ ہے اور بعد صلاة خصوصیت سے مقرون بالاجابة ہوتی ہے، احادیث میں کثرت سے اس کی فضیلت آئی ہے ”عمل الیوم واللیلة“ میں ان دعاؤں کی تفصیل موجود ہے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد نماز دعا میں مشغول رہنا ثابت ہوگیا تو ظاہر سی بات ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اتنی دیر دعا میں مشغول رہتے ہوں گے، جس سے دلالةً اجتماعی دعا کا ثبوت ہوگیا؛ البتہ امام کا جہراً دعا کرنا اور مقتدیوں سے آمین کہلوانا اس کی پابندی ثابت نہیں۔ سلام کے بعد امام ومقتدی کو فرداً فرداً دعا میں مشغول ہونا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند