• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 43057

    عنوان: ظہر كی نماز میں تیسری ركعت كے لیے كھڑے ہوتے ہوئے یاد آجائے تو بیٹھ جانے كی صورت میں نماز كا حكم؟

    سوال: ظہرکی نماز میں امام صاحب قعدہ اولیٰ میں بیٹھنے کی بجاے تیسری رکعت کے قیام میں چلے گئے، پھر مقتدیوں کی تحریک پر اللہ اکبر کہا اور بیٹھ گئے باقی دو رکعت پڑھا اور سجدہ سہو کیا، کیا اس طرح نماز صحیح ہوئی؟ چونکہ حالت قیام سے (جو فرض رکن ہے) امام صاحب قاعدہ اولیٰ (جو کے سنّت ہے ) کی طرف لوٹ کر ترک فرض کے مرتکب ہوئے اس لیے سوال یہ ہے کہ آیا سجدہ سہو سے نماز ہو جائے گی یا اسے دہرانا لازم آے گا ؟ برائے کرم قرآن و سنّت اور اجماع صحابہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 43057

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 50-39/N=2/1434 صورت مسئول عنہا میں مکمل قیام کے بعد امام صاحب کو قعدہ اولی کی طرف لوٹنا نہیں چاہیے تھا لیکن اگر لوٹ آئے اور اخیر میں سجدہٴ سہو کرلیا تو راجح اور صحیح قول کے مطابق نماز بلاشبہ درست ہوگئی کیونکہ قیام چھوڑکر قعدہ کی طرف آنے میں حقیقت میں فرض (قیام) کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ موٴخر کرنا ہے اور تاخیر فرض سے نماز فاسد نہیں ہوتی قال في الدر (مع الرد کتاب الصلاة باب سجود السہو: ۲/۵۴۸،۵۴۹ ط مکتبة زکریا دیوبند): وإلا أي وإن استقام قائما لا یعود لاشتغالہ بفرض القیام وسجد للسہو لترک الواجب فلو عاد إلی القعود بعد ذلک تفسد صلاتہ لرفض الفرض مما لیس بفرض وصححہ الزیلعي۔ وقیل: لا تفسد لکنہ یکون مسیئا ویسجد لتاخیر الواجب وہو الأشبہ کما حققہ الکمال وہو الحق بحر إھ․وانظر الرد أیضًا․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند