• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 42550

    عنوان: ڈاڑھی والے کے پیچھے نماز پڑھیں

    سوال: ہم جس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اس مسجد کا امام دعا کے وقت کہتا ہے کہ: یا اللہ مسلک اعلی حضرت کا بول بالا فرما .. ہمارے گھر کے آس پاس اور کوئی دوسری مسجد نہیں ہے تو کیا اس امام ا پیچھے نماز پڑھنا ٹھیک ہے ؟ دوسرا سوال دو آدمی ہیں ان میں سے ایک کو دین کے بارے میں زیادہ معلومات ہے اور دوسرے کو کم ہے جس کو معلومات زیادہ ہے اسکی داڑھی نہیں ہے اور دوسرے کو ہے اگر دونوں آدمی با جماعت نماز ادا کرنا چاہے تو امامت کون کرے ؟

    جواب نمبر: 4255001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2239-1743/B=1/1434 (۱) وہ غالی رضا خانی ہے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، جس مسجد میں صحیح العقیدہ امام ہے اس میں جاکر نماز پڑھیں، اگرچہ دور ہو۔ (۲) ڈاڑھی والے کے پیچھے نماز پڑھیں، بے ڈاڑھی والے کو امام نہ بنائیں، وہ شرعاً فاسق ہے۔ اور حدیث شریف میں فاسق آدمی کو امام بنانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ولا یوٴمّ فاجر موٴمنًا (ابن ماجہ) یعنی فاسق وفاجر آدمی مومن کی امامت نہ کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند