• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 41541

    عنوان: فجر كی سنتوں كے بارے میں

    سوال: فجر کی سنت موٴکدہ پڑھنے کے بارے میں صحیح نظریہ کیا ہے؟کیا ہم فرض کے بعد دو رکعات سنت موٴکدہ پڑھ سکتے ہیں؟میرا ایک دوست جو اس وقت سعودی عرب میں رہتاہے، نے کہا ہے کہ اگر تمہارے پاس وقت بہت کم ہو اور ایسا لگے کہ نماز چھوٹ جائے گی تو تم کو جماعت میں شامل ہوجانا چاہئے اور اس مسئلہ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس نے دو سے زیادہ حدیثیں بتائی ہے۔ اس لئے میں تذبذب میں ہوں۔ براہ کرم، میری رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 41541

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1515-1515/M=11/1433 سنت فجر کی حدیث میں بڑی تاکید آئی ہے، حدیث میں آیا ہے: لا تَدَعوا رکعتي الفجر وَلَو طَرَدتکم الخیلُ ترجمہ: فجر کی دو رکعت نہ چھوڑو چاہے گھوڑا تمھیں روند ڈالے۔ (ابوداوٴد ومسند احمد) اس جیسی روایت کی بنا پر فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ اگر فجر کی جماعت کھڑی ہو اور جماعت کے ساتھ آخری رکعت بلکہ قعدہٴ اخیرہ بھی ملنے کی توقع ہو تو سنت فجر ایک کنارہ ہوکر جلد ادا کرلے پھر جماعت میں شریک ہوجائے، صفوں سے لگ کر سنت نہ پڑھے اور اگر بالکلیہ جماعت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو سنت چھوڑکر جماعت میں شریک ہوجائے۔ اور پھر چھوٹی ہوئی سنت کو فرض کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے نہ پڑھے کیونکہ اس وقت کوئی نماز نہیں ہے۔ اگر سنت پڑھنی ہے تو طلوع آفتاب کے بعد مکروہ وقت ختم ہوجانے پر پڑھے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند