• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 40615

    عنوان: نماز تراویح کی رکعات

    سوال: سوال یہ ہے کہ آیا تروایح گیارہ رکعات ہیں یا بیس ؟ کیونکہ سنت تو گیارہ رکعت ہی ہیں ، اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی بھی اپنی کتاب " القیام والتراویح " میں اسے گیارہ رکعت ہی قرار دیتے ہیں، کچھ لوگ تو ان مساجد میں نماز تراویح ادا کرنے جاتے ہیں جہاں گیارہ رکعت ادا کی جاتی ہیں ، اورکچھ ان مساجد میں جاتے ہیں جہاں بیس رکعت ادا کی جاتی ہیں ، یہاں امریکہ میں یہ مسئلہ حساس بن چکا ہے کیونکہ گیارہ رکعت ادا کرنے والے بیس رکعت والوں کو ملامت کرتے ہیں ، اوراس کیبرعکس بیس رکعت پڑھنیوالے دوسروں کو ملامت کرتے ہیں اورفتنہ کی صورت بن چکی ہے ، اورپھر یہ بھی ہے کہ مسجد حرام میں بھی بیس رکعت ادا کی جاتی ہیں ۔ مسجد حرام اورمسجد نبوی میں نماز سنت کے خلاف کیوں ادا کی جاتی ہے ؟ مسجد حرام اورمسجدنبوی میں بیس رکعت کیوں ادا کی جاتی ہیں ؟

    جواب نمبر: 40615

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1653-1280/B=9/1433 راجح قول کے مطابق احادیث سے بیس رکعت تراویح کا پڑھنا مسنون ہے۔ دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں 1200 سال تک بیس یا اس سے زائد رکعتیں پڑھی جاتی رہیں۔ البانی صاحب غیرمقلد عالم ہیں اس لیے انھوں نے اپنے فرقہ کی حمایت میں یہ بات لکھی ہے، حرمین شریفین میں آج تک بیس ہی رکعت تراویح ہوتی ہے۔ ڈیڑھ دو سو سال سے غیرمقلدین کا فرقہ وجود میں آیا ہے، یہی فرقہ اس طرح کے فتنے پھیلاتا رہتا ہے، آپ محدث ابوالمآثر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی کتاب ”رکعات تراویح“ پڑھئے تو آپ کے احادیث وتاریخ کی روشنی میں خوب اچھی طرح بات سمجھ میں آجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند