• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 40164

    عنوان: نماز میں تلفظ كی غلطی

    سوال: اگر کوئی شخص نماز میں ایسی غلطی کرے کہ نستعین میں” س “کی جگہ” ص“ پڑھ دیا اور پھر دوسری سورة ملانے کے بعد اس غلطی کا ادراک ہوا ، اب اس کے لیے کیا حکم ہے؟ اسی طرح اگر التحیات پڑھتے ہوئے ایسی غلطی کرے کہ ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ پڑھ دیا جیسے” سا‘ کی جگہ ”تھا“پڑھے تو اب اس کی نماز باقی رہے گی؟ یا اس کو نماز دہرانی ہوگی؟ کچھ لوگوں کو بچپن میں الفاظ غلط پڑھادیئے جاتے ہیں پھر وہ نماز کی دعائیں اور التحیات ویسے ہی یاد کرتے ہیں جو کہ بعد میں علم ہونے پہ بھی ان سے عادة ًویسے ہی ادا ہوتی رہتی ہیں، تو کیا ان کی نماز ہوجاتی ہے؟

    جواب نمبر: 40164

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1174-739/L=8/1433 ”س“ کی جگہ ”ص“ پڑھنا یہ ایسی غلطی نہیں ہے جس سے نماز فاسد ہوجائے، البتہ اس کی کوشش کریں کہ ہرحرف کو اس کے مخرج سے ادا کریں، اسی طرح التحیات یا اور دعاوٴں میں غلطی کرنے سے بھی نماز فاسد نہیں ہوئی، البتہ علم ہوجانے کے بعد ان کی اصلاح کرلینا ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند