• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 37806

    عنوان: تكبیر تحریمہ

    سوال: میں نے الحمدللہ نماز کو تکبیر کے ساتھ مسجد میں ادا کیا مگر مجھے یہ بات آج پتا چلی ہے کے تکبیر تحریمہ جو امام کہے اسوقت مقتدی کو بھی زبان ہلا کر دوہرانا فرض ہوتا ہے، جب کہ میں امام کی تکبیر تحریمہ کو سن کر اور زبان ہلائے بغیر نماز میں داخل ہوتا تھا. باقی حالت میں اگر میں ایک منٹ بھی لیٹ ہوتا تو تکبیر تحریمہ کہہ لیتا. اب مجھے پوچھنا یہ ہے کے آیا میری سال کی ایک فرض نماز بھی نہ ہوگی، اور کیا ایک بھی عمل قبول نہیں ہو گا جوکہ اس فرض نماز کے ساتھ وابستہ ہے؟ میں اب کیا کروں؟ مجھ سے اب شیطان کے وسوسوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا، میری رہنمائی کریں اور یہ بھی جان لیجئے کہ میں نے جو اللہ کے توفیق سے ہوسکا کیا مگر اب مجھے دین پر چلنا بے حد مشکل رگ رہا ہے کیوں کہ اب میں نے اپنی کمائی کھودی ہے۔ گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں گے۔

    جواب نمبر: 37806

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 622-313/L=4/1433 امام تکبیر تحریمہ کہتے وقت مقتدی کو بھی زبان ہلاکر تکبیر کا دوہرانا فرض نہیں ہے، البتہ امام کے تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدی کو نماز میں داخل ہونے کے لیے تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدی کو نماز میں داخل ہونے کے لیے تکبیر تحریمہ کہنا ضروری ہے، بغیر تکبیر تحریمہ کہے آدمی نماز میں داخل نہیں ہوگا، اس لیے اگر آپ نماز میں داخل ہوجانے کے بعد تکبیر تحریمہ کہہ لیتے تھے تو آپ کی ساری پڑھی گئی ایک سال کی نماز یں درست ہوگئی، البتہ امام کے ساتھ تکبیر کہنا افضل اور مستحب ہے، البتہ اگر آپ نے بالکل تکبیر نہ کہی تو ان نمازوں کا اندازہ کرکے اعادہ کرلیں۔ نوٹ: تکبیر تحریمہ زبان سے کہنا جس سے ہلکی آواز پیدا ہو ضروری ہے، دل میں کہہ لینا کافی نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند