• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 35511

    عنوان: اگر کوئی شخص ٹرین سے سفر کرے اور اس میں بہت بھیڑ ہو اور نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہوتو کیا ایسی حالت میں سیٹ پر بیٹھ کر فرض نمازبیٹھ ادا کی جاسکتی ہے؟ سفر میں کیا کھڑے ہو کر ہی فرض ادا کرنا ضروری ہے؟

    سوال: (۱) اگر کوئی شخص ٹرین سے سفر کرے اور اس میں بہت بھیڑ ہو اور نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہوتو کیا ایسی حالت میں سیٹ پر بیٹھ کر فرض نمازبیٹھ ادا کی جاسکتی ہے؟ سفر میں کیا کھڑے ہو کر ہی فرض ادا کرنا ضروری ہے؟ (۲) اپنے آرام کے واسطے جان بوجھ کر جمعہ کے دن سفر شروع کرنا اورنماز جمعہ کو ترک کردینا کیساہے؟ میں مظفر نگر ، یو پی کا رہنے والاہوں اورکنیا کماری میں رہتاہوں۔یہاں سے ایک ٹرین جمعہ کے دن 8.50/ صبح مظفر نگر کے لیے جاتی ہے، باقی تین ٹرینیں دہلی کے لیے جاتی ہیں ، ایک بدھ ، ایک بار کو اور ایک روزانہ ۔ ہم لوگ دہلی سے مظفر نگر کے بیچ ہونے والی پریشانی کی وجہ سے اکثر جمعہ والی ٹرین سے ہی آتے ہیں۔ اب آپ حضرات کے اعتبار سے جمعہ کے روز سفر کرنا کیساہے جس میں جمعہ کی نماز ترک ہوتی ہے؟

    جواب نمبر: 35511

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 2027=449-12/1432 (۱) جی ہاں سفر میں فرض نماز کھڑے ہوکر ادا کرنا فرض ہے، البتہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو جس طرح ہوسکے نماز ادا کرے، (قضا کرنا جائز نہیں) لیکن قیام ترک کرنے کی وجہ سے اس نماز کا اعادہ بعد میں واجب ہوگا۔ (۲) سفر کے عذر کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے، لہٰذا جمعہ کی نماز کا وقت شروع ہونے کے وقت اگر کوئی مسافر ہوا تو اس پر نماز جمعہ فرض نہ ہوگی، سفر کی سہولت کے پیش نظر جمعہ کی صبح سفر شروع کرنے میں حرج نہیں، اگرچہ اولیٰ بات یہ ہے کہ ایسا نظام بنائے جس سے جمعہ کی نماز نہ چھوٹے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند