• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 3469

    عنوان:

    دوران نماز کس نماز میں دعاکرسکتے ہیں؟ میں نے سناہے کہ بہترین دعا سجدہ اور رکوع کے درمیان خصوصا جلسہ (دوسجدہ کے درمیان) میں ہے، اگر یہ بات صحیح ہے تو کونسی دعا اچھی ہے اور کن کن نمازوں میں دعاکرنی چاہئے؟ کیا نماز میں ربنا لک الحمد کے بعد: حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پڑھنا اچھاہے؟

    سوال:

    دوران نماز کس نماز میں دعاکرسکتے ہیں؟ میں نے سناہے کہ بہترین دعا سجدہ اور رکوع کے درمیان خصوصا جلسہ (دوسجدہ کے درمیان) میں ہے، اگر یہ بات صحیح ہے تو کونسی دعا اچھی ہے اور کن کن نمازوں میں دعاکرنی چاہئے؟ کیا نماز میں ربنا لک الحمد کے بعد: حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پڑھنا اچھاہے؟

    جواب نمبر: 3469

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1053/ ج= 1053/ ج

     

    نماز کی مختلف حالتوں کے بابت احادیث میں مختلف اذکار و دعائیں وارد ہوئی ہیں، مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اٹھ کر یہ پڑھتے تھے اللّٰہُمَّ ربنا لک الحمد ملأ السماوات والأرض وملأ ما شئت من شيء بعد اسی طرح رکوع و سجود میں یہ دعا پڑھتے تھے، سبحانک اللّھم وبحمدک اللّھم اغفر لي اوردونوں سجدوں کے درمیان اس دعا کے پڑھنے کا ذکر ملتا ہے: اللھم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني ان کے علاوہ مشکوٰة و دیگر کتب احادیث میں طویل دعاوٴں کا بھی ذکر ملتا ہے؛ لیکن حدیث میں چوں کہ ہلکی نماز پڑھانے کی تاکید آئی ہے، چنانچہ وارد ہے: إذا صلّی أحدکم للناس فلیخفف اس بنا پر فقہاء احناف نے ان تمام اذکار و ادعیہ کو فرائض کے علاوہ نوافل میں مسنون قرار دیا ہے۔ لہٰذا نوافل ہی میں ان کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ربنا لک الحمد کے بعد حمدا کثیر طیباً مبارکا فیہ کا اضافہ کرنا مقتدی کے لیے اچھا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے امام کی اتباع میں تاخیر نہ واقع ہوتی ہو۔ البتہ امام کو یہ اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ ویجلس بین السجدتین مطمئنا ولیس فیھا ذکر مسنون وکذا بعد رفعہ من الرکوع وسجودہ بعد التسبیح علی المذھب وما رواہ محمول علی النفل (الدر مع الشامي: ج۲ ص۲۱۳)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند