• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 31146

    عنوان: / میں میں نے حج کیا اور مکہ مکرمہ میں ہمارا قیام 20/ دنوں کے لیے تھا ۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہم نے چار رکعات نماز فرض اداکی اور دوسرے لوگوں نے دورکعات ادا کی۔ ہم نے بہت سے مفتیان کرام سے پوچھا کہ چار یا دورکعات پڑھی جائے تو کسی نے دواور کسی نے چاررکعات پڑھنے کے لیے کہا جس سے ہم تذبذب میں پڑگئے

    سوال: 2010/ میں میں نے حج کیا اور مکہ مکرمہ میں ہمارا قیام 20/ دنوں کے لیے تھا ۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہم نے چار رکعات نماز فرض اداکی اور دوسرے لوگوں نے دورکعات ادا کی۔ ہم نے بہت سے مفتیان کرام سے پوچھا کہ چار یا دورکعات پڑھی جائے تو کسی نے دواور کسی نے چاررکعات پڑھنے کے لیے کہا جس سے ہم تذبذب میں پڑگئے۔ میں نے اپنے رہنما جو تبلغی بھی ہے کے پیچھے چار رکعات نماز پڑھی ، انہوں نے کہا کہ منی حرام میں شامل ہے۔ براہ کرم، اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں۔

    جواب نمبر: 31146

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 517=450-4/1432 مسافر جب کہیں ۱۵/ یوم یا اس سے زیادہ قیام کرنے کی نیت کرے گا تو وہ مقیم ہوجائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔ اگر آپ نے ۲۰/ روز مکہ مکرمہ میں قیام کرلیا تو مکہ، منی، عرفات، مزدلفہ ہرجگہ آپ پوری نماز پڑھیں گے۔ اور مدینہ منورہ میں آکر قیام ۱۵ دن سے کم کا تھا اور اکثر ۸-۱۰ دن ہی کا قیام وہاں ہوتا ہے تو آپ وہاں مسافر رہیں گے۔ اگر اپنی تنہا نماز پڑھیں گے تو ظہر، عصر، عشاء ۲ رکعت پڑھیں گے اور مقیم کی اقتداء میں چار رکعت ادا کریں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند