• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 3028

    عنوان:

    عشا کی نماز سے پہلے چاررکعات نماز پڑھنے کا کیا ثبوت ہے؟ کیا عشا کی نماز سے پہلے دو رکعات پڑھنا بہترہے یا چار کعات؟ (۲) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول : کیا میں ان احمق لوگوں کی وجہ سے اپنے محبوب کی سنت ترک کردوں؟ کا حوالہ کیاہے؟

    سوال:

    عشا کی نماز سے پہلے چاررکعات نماز پڑھنے کا کیا ثبوت ہے؟ کیا عشا کی نماز سے پہلے دو رکعات پڑھنا بہترہے یا چار کعات؟ (۲) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول : کیا میں ان احمق لوگوں کی وجہ سے اپنے محبوب کی سنت ترک کردوں؟ کا حوالہ کیاہے؟

    جواب نمبر: 3028

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 142/ ج= 137/ ج

     

    عشاء کی نماز سے قبل چار رکعت یا دو رکعت پڑھنا مستحب ہے، چار پڑھنا زیادہ اچھا ہے۔ وفي الشامي: یستحب أربع قبل العصر وقبل العشاء وبعدھا لحدیث الترمذي: ج۲ ص۴۵۱، شامي: زکریا) اور مشکاة میں ہے: بین کل أذانین صلوة، مشکاة: ۶۵)

    (۲) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ کا یہ قول فتاویٰ رحیمیہ : ج۲ ص۴۰۶ پر اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کھانا کھارہے تھے کہ ایک لقمہ گرپڑا تو انھوں نے اسے صاف کرکے کھالیا تو کچھ دیہاتی قسم کے لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے، تو اس وقت حضرت معقل بن یسار سے یہ منقول ہے کہ انھوں نے کہا:ھ کہ کیا ان عجمیوں اوردیہاتیوں کی وجہ سے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑدوں۔ (ابن ماجہ، ج۵ ص۲۱، باب اللقمة إذا سقطت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند