• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 30070

    عنوان: کیا فماتے ہیں علماء کرام ایسے امام کے بارے میں جن کو ان کے ایک بہت اچھے دوست نے ہر طریقے سے اور ایک شاگرد نے کئی مرتبہ اشارتاَ نماز پڑھاتے وقت شلوار کو ٹخنوں سے اوپر کرنے کو کہا لیکن وہ جاننے کے باوجود ہمیشہ بے احتياطى اور ابھی تک ان کے ٹخنے شلوار سے دھنکے ہوے ہوتے ہیں تو کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اگر وہ جمعہ کی نماز پڑھائیں پھر اگر اس نماز کو دوہرانا ہو تو کیا چار ركعت پڑھی جائیں یا دو ركعت؟ ہمارے شہر میں سارے عرب امام جو کہ مسجد میں ننگے سر اور اکثر ٹخنوں کو ڈھانک کر نماز پڑہاتے ہیں کیا ہم مسجد جایا کریں یا بافسوس گھر پر پڑھلیا کریں؟ - شکریہ

    سوال: کیا فماتے ہیں علماء کرام ایسے امام کے بارے میں جن کو ان کے ایک بہت اچھے دوست نے ہر طریقے سے اور ایک شاگرد نے کئی مرتبہ اشارتاَ نماز پڑھاتے وقت شلوار کو ٹخنوں سے اوپر کرنے کو کہا لیکن وہ جاننے کے باوجود ہمیشہ بے احتياطى اور ابھی تک ان کے ٹخنے شلوار سے دھنکے ہوے ہوتے ہیں تو کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اگر وہ جمعہ کی نماز پڑھائیں پھر اگر اس نماز کو دوہرانا ہو تو کیا چار ركعت پڑھی جائیں یا دو ركعت؟ ہمارے شہر میں سارے عرب امام جو کہ مسجد میں ننگے سر اور اکثر ٹخنوں کو ڈھانک کر نماز پڑہاتے ہیں کیا ہم مسجد جایا کریں یا بافسوس گھر پر پڑھلیا کریں؟ - شکریہ

    جواب نمبر: 30070

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ):486=334-3/1432

    (۱) شلوار پاجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچا رکھنا سخت مکروہ ہے، حدیث شریف میں شدید وعیدیں اس پر وارد ہوئی ہیں جو امام ٹخنوں کے ڈھانکنے کا عادی ہے اور توجہ دلانے کے باوجود اصلاح پر آمادہ نہیں اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
    (۲) صحت جمعہ کے لیے تو جماعت بھی شرط ہے، اس لیے بجائے دو رکعت فرض جمعہ کے ظہر کی نیت سے چار رکعت فرض پڑھ لیا کریں۔
    (۳) ایسی صورت میں ان کے پیچھے پڑھ کر دہرالینا بہتر ہے، مستقلاً جماعت اور مسجد کو نہ چھوڑا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند