• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 300

    عنوان:

    ہماری مسجد میں ایک مسئلہ کھڑا ہوا ہے کہ نماز کے بعد دعا اجتماعی ہونا چاہیے یا انفرادی۔ سابق امام صاحب سرّی (بلا آواز کے) دعا کراتے تھے، اب ایک دوسرے امام آئے اور انھوں نے بلند آواز سے دعا کرانا شروع کردیا۔ براہ کرم، قرآن و حدیث سے اس سلسلے میں فتوی عنایت فرمائیں۔

    سوال:

    ہماری مسجد میں ایک مسئلہ کھڑا ہوا ہے کہ نماز کے بعد دعا اجتماعی ہونا چاہیے یا انفرادی۔ سابق امام صاحب سرّی (بلا آواز کے) دعا کراتے تھے، اب ایک دوسرے امام آئے اور انھوں نے بلند آواز سے دعا کرانا شروع کردیا۔ براہ کرم، قرآن و حدیث سے اس سلسلے میں فتوی عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 300

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 433/ج=433/ج)

     

    دعا آہستہ مانگنی چاہیے، مستحب یہی ہے۔ قرآن میں ہے : اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً اپنے پروردگار کو عاجزی کے ساتھ اور آہستہ پکارو۔ مفتی شفیع صاحب نے جواہر الفقہ میں نقل کیا ہے کہ مذاہب اربعہ میں اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ نماز کے بعد امام اورمنفرد کے لیے آہستہ دعا مانگنا مستحب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند