• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 29641

    عنوان: (۱) کیا حنفی المسلک شخص سجدہ سہو شافعی کے طرز پر کرے تو کیا نماز ہوجائے گی؟اگر ہوجائے گی تو حدیث کا حوالہ بھی دیں، مہربانی ہوگی۔(۲) نماز میں غلطی ہوئی اور سجدہ سہو یاد نہیں آیا /بھول گیا آخری رکعت میں تو کیا سلام پھیرنے کے بعد اگر دوسجدے کئے جائیں تو نماز ہوجائے گی نہ تو قبلہ کا رخ کا بدلا ہے اور نہ ہی کلام کیا ہے؟(۳) کیا مرد اپنی بیوی کو شہوت دلانے کے لیے اس کے فرج کو اپنے ہاتھ سے سہلا (یعنی ہاتھ پھیرنا) سکتاہے ، کیوں کہ مرد جلدی فارغ ہوجاتاہے اور عورت دیر سے فارغ ہوتی ہے، یہ کرنا صرف اس لیے ہے کہ عورت کو بھی بھرپور تسکین حاصل ہوجائے ؟

    سوال: (۱) کیا حنفی المسلک شخص سجدہ سہو شافعی کے طرز پر کرے تو کیا نماز ہوجائے گی؟اگر ہوجائے گی تو حدیث کا حوالہ بھی دیں، مہربانی ہوگی۔(۲) نماز میں غلطی ہوئی اور سجدہ سہو یاد نہیں آیا /بھول گیا آخری رکعت میں تو کیا سلام پھیرنے کے بعد اگر دوسجدے کئے جائیں تو نماز ہوجائے گی نہ تو قبلہ کا رخ کا بدلا ہے اور نہ ہی کلام کیا ہے؟(۳) کیا مرد اپنی بیوی کو شہوت دلانے کے لیے اس کے فرج کو اپنے ہاتھ سے سہلا (یعنی ہاتھ پھیرنا) سکتاہے ، کیوں کہ مرد جلدی فارغ ہوجاتاہے اور عورت دیر سے فارغ ہوتی ہے، یہ کرنا صرف اس لیے ہے کہ عورت کو بھی بھرپور تسکین حاصل ہوجائے ؟

    جواب نمبر: 29641

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 354=106-3/1432

    (۱) حنیفہ کے نزدیک سلام کے بعد سجدہٴ سہو کرنا مسنون ہے، اگر سلام سے پہلے تشہد کے بعد اتفاقاً سجدہٴ سہو کرلیا تو یہ بھی جائز ہے، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 
    ”ومحلہ بعد السلام سواء کان من زیادة أو نقصان ولو سجد قبل السلام أجزأہ عندنا“ (عالمگیری: ۱/۱۲۵، کتاب الصلاة، الباب الثانی عشر في سجود السہو) 
    بعض احادیث میں نبی کریم علیہ السلام کا سلام سے قبل سجدہٴ سہو کرنا منقول ہے: کما روي عبد اللہ بن بجینة أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم سجد للسہو قبل السلام (بخاری) لیکن احناف نے دوسری حدیث ”لکل سہو سجدتان قبل السلام“ کو اپنا مستدل بنایا ہے، اور ابن بجینہ کی حدیث میں تاویل کی ہے اوراپنے موقف کی وجوہ ترجیحات بھی بیان کی ہیں جو شروحات حدیث میں مفصل مذکور ہیں۔ 
    (۲) اگر قبلہ سے رخ نہیں ہٹا ہے اور نہ ہی کلام کیا ہے تو سجدے کے بعد تشہد، درود اور دعا پڑھ لینے سے نماز صحیح ہوجائے گی۔ ویسقط (أي سجود السہو) بوجود ما یمنع البناء بعد السلام کحدث عمد وعمل مناف کقہقہة وأکل وکلام (طحطاوي علی المراقي: ۴۶۳، کتاب الصلاة، باب سجود السہو، ط: دارالکتاب دیوبند)
    (۳) بہ وقت ضرورت ایسا کرسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند