• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 28263

    عنوان: (۱) قضانماز کب تک پڑھی جاسکتی ہے ؟ ہمارے جاننے والے کہتے ہیں کہ اگر مثال کے طورپر ظہر کی نماز قضا ہوجائے تو عصر کی نماز سے پہلے پڑھنی چاہئے ورنہ نماز ہمیشہ کے لیے فوت ہوجاتی ہے اور کوئی قضا نہیں ہوتی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ اگلے ظہر سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہئے۔
    (۲) سناہے کہ عشا ء کی نماز اگر کوئی پڑھے بغیر سوجائے پھر دوبارہ اٹھے اور عشاء کا وقت بھی ہو ، لیکن اس کے لیے عشاء کی نماز قضا ہوجاتی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ 
    (۳) اگر نماز پڑھتے وقت سامنے آئینہ ہو یا آگ جل رہی ہو جیسے ہیٹر کی تو کیا نماز پڑھنا جائز ہے؟میں نے سناہے کہ آئینہ میں اپنا عکس پڑتا ہے اور لوگ آگ کوبھی پوجتے ہیں توکیا ان کے سامنے سجدہ کرنا جائز ہے؟ 

    سوال: (۱) قضانماز کب تک پڑھی جاسکتی ہے ؟ ہمارے جاننے والے کہتے ہیں کہ اگر مثال کے طورپر ظہر کی نماز قضا ہوجائے تو عصر کی نماز سے پہلے پڑھنی چاہئے ورنہ نماز ہمیشہ کے لیے فوت ہوجاتی ہے اور کوئی قضا نہیں ہوتی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ اگلے ظہر سے پہلے پہلے پڑھ لینی (۲) سناہے کہ عشا ء کی نماز اگر کوئی پڑھے بغیر سوجائے پھر دوبارہ اٹھے اور عشاء کا وقت بھی ہو ، لیکن اس کے لیے عشاء کی نماز قضا ہوجاتی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟
    (۳) اگر نماز پڑھتے وقت سامنے آئینہ ہو یا آگ جل رہی ہو جیسے ہیٹر کی تو کیا نماز پڑھنا جائز ہے؟میں نے سناہے کہ آئینہ میں اپنا عکس پڑتا ہے اور لوگ آگ کوبھی پوجتے ہیں توکیا ان کے سامنے سجدہ کرنا جائز ہے؟

    چاہئے۔

    جواب نمبر: 28263

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 70=10-1/1432

    (۱) قضا نماز جلد پڑھ لینی چاہیے، اگر آدمی صاحب ترتیب ہے تو اس کو دوسرے وقت کی نماز ادا کرنے سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے، لیکن اگر اس نے ادا نہیں کیا اور کئی روز گذرگئے تو بھی وہ نماز ذمہ سے ساقط نہیں ہوئی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ محدود وقت مثلاً ایک وقت یا ایک دن گذرجانے کے بعد فائتہ نماز کی قضاء کا حکم نہیں ہے، ان کا قول درست نہیں۔
    (۲) عشاء کا وقت ہوتے ہوئے اس پر قضا کا حکم لگانا صحیح نہیں؛ بلکہ اگر وہ اٹھ کر وقت میں نماز ادا کرلیتا ہے تو نماز ادا کہلائے گی جو لوگ کہتے ہیں کہ سونے سے نماز قضا ہوجاتی ہے، ان کا قول درست نہیں، یہ اور بات ہے کہ اگر سونے کی وجہ سے جماعت کے نکل جانے یا نماز قضا ہوجانے کا اندیشہ ہو تو عشاء سے پہلے سونا مکروہ ہے۔
    (۳) جلتی ہوئی آگ کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے ولا إلی مصحف أو سیف مطلقًا أو شمع أو سراج أو نار توقد لأن المجوس إنما تعبد الجمر لا النار الموقدة (درمختار) اسی طرح اگر سامنے آئینہ ہو تو بھی نماز درست ہوجائے گی، البتہ اگر اس کی وجہ سے نماز میں خلل آتا ہو یا نمازی کو اپنی تصویر نظر آتی ہو تو نماز مکروہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند