• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 26941

    عنوان: میری والدہ کا انتقال چند روز قبل ہوا۔ والدہ حیات میں نمازوں کی پابند رہی تھیں، مگر آخر عمر کے ۷-۶ ماہ پیشاب بار بار ہونے کی وجہ سے نمازیں چھوٹ گئی تھیں، ان کی ملکیت کے تقریباً گیارہ ہزار روپئے میرے پاس ہیں۔ تمام وارثین اس رقم کو کسی مد میں ایصال ثواب کی نیت سے صرف کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کو مرحومہ کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے کفارے کے طور پر خرچ کیا جائے یا کسی مسجد مدرسے میں دیا جائے، یا دوسری کسی جگہ لگایا جائے؟ سب سے زیادہ مناسب کیا رہے گا؟ تحریر فرمائیں۔ اگر نماز کے کفارے کے طور پر دینا ہو تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ اگر اس سے بہتر کوئی صورت ہو تو وہ بھی تحریر فرمائیں۔ جواب جلد ارسال فرمائیں کیوں کہ ہمارے محلے میں مسجد کی تعمیر کا کام آخری مرحلوں میں چل رہا ہے۔ اگر اس میں دینا ہو تو جلد دیا جاسکے۔

    سوال: میری والدہ کا انتقال چند روز قبل ہوا۔ والدہ حیات میں نمازوں کی پابند رہی تھیں، مگر آخر عمر کے ۷-۶ ماہ پیشاب بار بار ہونے کی وجہ سے نمازیں چھوٹ گئی تھیں، ان کی ملکیت کے تقریباً گیارہ ہزار روپئے میرے پاس ہیں۔ تمام وارثین اس رقم کو کسی مد میں ایصال ثواب کی نیت سے صرف کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کو مرحومہ کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے کفارے کے طور پر خرچ کیا جائے یا کسی مسجد مدرسے میں دیا جائے، یا دوسری کسی جگہ لگایا جائے؟ سب سے زیادہ مناسب کیا رہے گا؟ تحریر فرمائیں۔ اگر نماز کے کفارے کے طور پر دینا ہو تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ اگر اس سے بہتر کوئی صورت ہو تو وہ بھی تحریر فرمائیں۔ جواب جلد ارسال فرمائیں کیوں کہ ہمارے محلے میں مسجد کی تعمیر کا کام آخری مرحلوں میں چل رہا ہے۔ اگر اس میں دینا ہو تو جلد دیا جاسکے۔

    جواب نمبر: 26941

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 4705=997-11/1431

    چھوٹی ہوئی نمازوں کے فدیہ کی نیت سے ایسے مدرسہ میں دیدینا بہتر ہے کہ جس میں یہ رقم غریب طلبہٴ کرام پر خرچ ہوجائے بشرطیکہ سب ورثہ بالغ ہوں اگر کوئی وارث نابالغ ہو تو اس کے حصہ کی رقم اس میں صرف نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند