• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 26363

    عنوان: میں حنفی مسلک پر عمل کرتاہوں، کیا میں شافعی یا حنبلی امام کے پیچھے عصر کی نماز پڑھ سکتاہوں؟ چونکہ ان کا وقت حنفی مسلک سے مختلف ہے ۔ 
     (۲) کیا عصر کے علاوہ کسی نماز میں فرق ہے؟ دبئی میں اکثر مساجد شافعی ہیں یا حنبلی ہیں، اس لیے نماز کا وقت ہوتے ہی اذان دی جاتی ہے، کیا شافعی یا حنبلی مسلک کے مطابق اذان ختم ہوتے ہی میں تنہا عصر کی نماز پڑھ سکتاہوں؟

    سوال: میں حنفی مسلک پر عمل کرتاہوں، کیا میں شافعی یا حنبلی امام کے پیچھے عصر کی نماز پڑھ سکتاہوں؟ چونکہ ان کا وقت حنفی مسلک سے مختلف ہے ۔ 
     (۲) کیا عصر کے علاوہ کسی نماز میں فرق ہے؟ دبئی میں اکثر مساجد شافعی ہیں یا حنبلی ہیں، اس لیے نماز کا وقت ہوتے ہی اذان دی جاتی ہے، کیا شافعی یا حنبلی مسلک کے مطابق اذان ختم ہوتے ہی میں تنہا عصر کی نماز پڑھ سکتاہوں؟

    جواب نمبر: 26363

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1643=1186-11/1431

    (۱) صورت مسئولہ میں جب حنفی مسلک کے اعتبار سے عصر کی نماز کا وقت ہو اس وقت آپ نماز ادا کیا کریں، اگر ایک دو حضرات اور مل جائیں تو جماعت کرلیا کریں، ورنہ تنہا پڑھ لیں، مستقل طور پر شافعی یا حنبلی امام کی اقتداء میں عصر کی نماز نہ ادا کریں، اتفاقاً اگر کبھی پڑھ لیں تو اس کی گنجائش ہے۔
    (۲) عصر کے علاوہ دیگر نمازوں کے اوقات میں اختلاف نہیں ہے، البتہ وہ کچھ نمازوں کو اولِ وقت میں ادا کرتے ہیں، ہم کچھ تاخیر سے ادا کرتے ہیں، مگر وقت اس نماز کا شروع ہوچکا ہوتا ہے اس لیے آپ دیگر نمازیں ان کی اقتداء ہی میں ادا کریں، تنہا نہ پڑھیں۔
    (۳) وہاں عصر کی اذان ہوتے ہی آپ کے لیے تنہا عصر کی نماز پڑھنا صحیح نہیں بلکہ آپ توقف کریں اورمثلین کے بعد عصر کی نماز ادا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند