• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 26235

    عنوان: رکعتین بعد الوتر کے دوام کا حکم

    سوال: عرض یہ ہے کہ حال ہی میں رکعتین بعد الوتر کے تعلق سے دارالافتاء کے کچھ فتاویٰ پڑھنے کا موقع ملا ، پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ شاید جوابات کچھ اور توجہ کے طالب تھے، مثال کے طور پر فتوی نمبر 21345 جس میں سائل نے رکعتین بعد الوتر کے دوام کا حکم معلوم کیا ہے اوراسک و اس کے دوام کی اجازت مرحمت فرمادی گئی، ساتھ ہی بخاری شریف کی روایت کا جو منشا بیان کیا گیا ہے کہ اخیر شب میں وتر کو ادا کیا جائے تو حضرت والا اگر کوئی شخص اخیر شب میں وتر کو ادا کرتا ہے تو جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر ”معمول صبح صادق کے قیرب وتر ادا کرنے کا تھا تو نوافل کی گنجائش ہی کہاں رہ جات یہے؟ عام طور پر فقہاء نے اس حدیث کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ رات کی آخری نماز وتر کو بناوٴ اور اسی حدیث کی بنا پر اکثر فقہاء حنفیہ نے رکعیتین بعد الوتر کا تذکرہ اپنی کتب میں نہیں فرمایا، بقول شیخ ذرول دامت برکاتہم فقہ حنفی کی معتبر ومستند کتب میں نورالایضاح اور قدوری سے لے کر ہدایہ اور فتح القدیر تک، خلاصة الفتاویٰ سے عالمگیری اور شامی تک اور بحرالرائق، نصب الرایہ، بزازیہ، قاضی خان اور دیگر کتابوں میں وتر کو اخیر میں پڑھنے کے افضل اور بہتر کہا ہے اور وتروں کے بعد نفل کو ذکر نہیں کیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رکعتین بعد الوتر کے دوام کو کیسے افضل کہا جاسکتا ہے؟ بعض روایات جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکعتین بعد الوتر کے عمل پر استدلال کیا جاتا ہے ان روایات پر خود فقہاء حنفیہ نے کلام کیا ہے، جس کی روشنی میں ان روایات سے رکعتین بعد الوتر کا جواز تو ثابت ہوتا ہے، لیکن رکعتین بعد الوتر کو افضل نہیں کہا جاسکتا، رکعتین بعد الوتر سے متعلق کچھ عبارات: (۱) وتر کے بعد کی دو رکعتوں امام مالک نے انکار کیا ہے وہ فرماتے ہیں ”لا أُصلیہما“ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی سے اس بارے میں کوئی روایت مروی نہیں اور امام احمد سے صرف ایک مرتبہ پڑھنا ثابت ہے۔ (درس ترمذی: ۲/۲۴۱) نعیمیہ (۲) ورویت صلاة الرکعتین بعد الوتر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم من حدیث أبی أمامة وأنس وأم سلمة وثوبان، ومعظمہا ضعیف، وحدیث عائشة محمول علی أنہ علیہ السلام فعلہ مرة، أو مرات، لبیان الجواز، فإن الروایات الصحیحة عن عائشة․ وخلائق من الصحابة، أن آخر صلاتہ فی اللیل، کان وترا․ (نصب الرایة: ۲/۱۳۷) موٴسسة البریان بیروت۔ (۳) أَوْتَرَ قَبْلَ النَّوْمِ ثُمَّ قَامَ مِنْ اللَّیْلِ فَصَلَّی لَا یُوتِرُ ثَانِیًا لِقَوْلِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ( لَا وِتْرَانِ فِی لَیْلَةٍ ) وَلَزِمَہُ تَرْکُ الْمُسْتَحَبِّ الْمُفَادِ بِقَوْلِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ( اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِکُمْ بِاللَّیْلِ وِتْرًا ) لِأَنَّہُ لَا یُمْکِنُ شَفْعُ الْأَوَّلِ لِامْتِنَاعِ التَّنَفُّلِ بِرَکْعَةٍ أَوْ ثَلَاثٍ . (فتح القدیر: ۱/۵۴۴) زکریا۔ (۴) قال الإمام أحمد رحمہ اللہ تعالی: یحتمل أن یکون المراد بہ رکعتان بعد الوتر ، ویحتمل أن یکون أراد فإذا أراد أن یوتر فلیرکع رکعتین قبل الوتر. (السنن الکبری للبیہقي: ۳/۴۸) دار الکتب العلمیة․ (۵) امام بیہقی نے ایک باب قائم فرمایا ہے: ”باب من قال بجعل آخر صلاتہ وترا وأن الرکعتین بعدہا ترکنا․ (السنن الکبری: ۳/۴۹) (۶) ابن ماجہ کی ایک روایت پر کلام کرتے ہوئے ملا علی قاری فرماتے ہیں: ”لعلہ کان کلہ قبل قولہ علیہ الصلاة والسلام، اجعلوا آخر صلاتکم باللیل وترا أو فعلہ لبیان الجواز“ (مرقات: ۳/۱۷۷) امدادیہ ملتان۔ (۷) قال الشیخ محمد یوسف البنوري بعد نقل العبارة المارة عن البیہقي: قال الراقم والظاہر عندي الثاني وإلیہ ذہب شیخنا في الکشف واختارہ القاري في المرقاة․ (معارف السنن: ۴/۲۵۹، دارالکتاب دیوبند) (۸) عبدالرزاق عن الثوري عن الزہیر بن عدي عن إبراہیم قال: قلت لہ: الرجل یوتر من اللیل ثم یستیقظ وعلیہ لیل قال حسن: وقت کانوا یستحبون أن یکون آخر صلاتہم الوتر․ (المصنف عبد الرزاق: ۲/۳۱) المکتب الإسلامي۔ یہ ناکارہ دینی معلومات نہ رکھنے اور بے علمی کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں کہ رکعتین بعد الوتر پر دوام افضل ہے اور اس کی عادت ڈالنا اچھا ہے یا وتر کو اخیر نماز بنانے کی کوشش کرنا افضل ہے۔

    جواب نمبر: 26235

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1036=1036-7/1432 سابقہ فتویٰ میں وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کی عادت بنانے کو صحیح لکھا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا معمول بنانا ناجائز نہیں بلکہ جائز ہے اگر کوئی دائمی طور پر پڑھے تو اس کو منع نہیں کیا جائے گا، البتہ اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ وتر کو آخری نماز بنایا جائے، چنانچہ جس شخص کو اخیر رات میں نیند سے بیدار ہونے پر یقین واعتماد ہو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ تہجد سے فارغ ہوکر اخیر میں وتر ادا کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند