• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 26007

    عنوان: (۱) نماز پڑھتے ہوئے اگر کوئی قرأت بھول جائے یا کسی لفظ کا تلفظ بھول کر غلط پڑھ لے جیسے ” ان“ کے بجائے ” انا“ پڑھ لے ، لیکن فوراً یہ یاد آجائے اور اس کو درست کرلے تو کیا ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا ہوگا؟(۲) امام صاحب نماز پڑھاتے ہوئے قرأ ت کررہے ہیں اور آدھی سورة پڑھ کر بھول جائے اور مقتدی نے یاد کروائی توکیا سجدہ سہو کرنا ہوگا؟(۳) جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے اگر مقتدی سے کوئی رکن غلط ہو گیا یا رکوع میں ” سبحان ربی الاعلی “ پڑھ لیاتو کیا مقتدی کو سجدہ کرنا چاہئے؟(۴) اگر لوگ نماز پڑھ رہے ہوں اور سامنے سے کوئی گذرجاتاہے تو کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟اگر ایساہے تو میں یہاں چین میں ہوتاہوں اور مسجد میں لوگ بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے ہیں اور آگے سے گذرتے رہتے ہیں تو کیا کیا جائے؟(۵) چار رکعات سنت میں ہر رکعت میں آمین کے بعدکوئی سورة پڑھنی ہے ، یہ کچھ دن پہلے آپ کا ایک فتوی پڑھ معلوم ہوا ہے ، ورنہ جب سے میں نماز پڑھ رہاہوں تو چار کعات سنت میں صر ف پہلی دورکعات میں آمین کے بعد کوئی سورة ملاتا تھا اور باقی دورکعات میں آمین کے بعد کوئی سورة نہیں ملا تا تھا، اب جتنی سنتیں ایسی پڑھ چکاہوں تو کیا جائے؟اگر کوئی چار رکعات فرض اکیلے میں پڑھ رہا ہو تو کیسے پڑھے؟ صرف پہلی دو میں کوئی سورة ملائے یا سب رکعات میں؟ (۶) اگر گمان غالب ہو کہ مسجد کے نام پر لئے جانے والے چندے میں سے لوگ خود ذاتی استعمال میں بھی صرف کرتے ہیں تو کیا میں چندہ دینا بند کرسکتاہوں؟ جب کہ مسجد کی انتظامیہ پر میرا کوئی کنڑول نہیں ہے؟

    سوال: (۱) نماز پڑھتے ہوئے اگر کوئی قرأت بھول جائے یا کسی لفظ کا تلفظ بھول کر غلط پڑھ لے جیسے ” ان“ کے بجائے ” انا“ پڑھ لے ، لیکن فوراً یہ یاد آجائے اور اس کو درست کرلے تو کیا ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا ہوگا؟(۲) امام صاحب نماز پڑھاتے ہوئے قرأ ت کررہے ہیں اور آدھی سورة پڑھ کر بھول جائے اور مقتدی نے یاد کروائی توکیا سجدہ سہو کرنا ہوگا؟(۳) جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے اگر مقتدی سے کوئی رکن غلط ہو گیا یا رکوع میں ” سبحان ربی الاعلی “ پڑھ لیاتو کیا مقتدی کو سجدہ کرنا چاہئے؟(۴) اگر لوگ نماز پڑھ رہے ہوں اور سامنے سے کوئی گذرجاتاہے تو کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟اگر ایساہے تو میں یہاں چین میں ہوتاہوں اور مسجد میں لوگ بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے ہیں اور آگے سے گذرتے رہتے ہیں تو کیا کیا جائے؟(۵) چار رکعات سنت میں ہر رکعت میں آمین کے بعدکوئی سورة پڑھنی ہے ، یہ کچھ دن پہلے آپ کا ایک فتوی پڑھ معلوم ہوا ہے ، ورنہ جب سے میں نماز پڑھ رہاہوں تو چار کعات سنت میں صر ف پہلی دورکعات میں آمین کے بعد کوئی سورة ملاتا تھا اور باقی دورکعات میں آمین کے بعد کوئی سورة نہیں ملا تا تھا، اب جتنی سنتیں ایسی پڑھ چکاہوں تو کیا جائے؟اگر کوئی چار رکعات فرض اکیلے میں پڑھ رہا ہو تو کیسے پڑھے؟ صرف پہلی دو میں کوئی سورة ملائے یا سب رکعات میں؟ (۶) اگر گمان غالب ہو کہ مسجد کے نام پر لئے جانے والے چندے میں سے لوگ خود ذاتی استعمال میں بھی صرف کرتے ہیں تو کیا میں چندہ دینا بند کرسکتاہوں؟ جب کہ مسجد کی انتظامیہ پر میرا کوئی کنڑول نہیں ہے؟

    جواب نمبر: 26007

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 47=14-1/1432

    (۱-۲) مذکورہ دونوں صورتوں میں سجدہٴ سہو لازم نہیں ہے، سجدہٴ سہو کسی فرض کو اس کے وقت سے بھول کر موٴخر کرنے یا کسی واجب کے نسیاناً فوت ہونے سے لازم آتا ہے۔ قراء ت کی غلطیوں کی وجہ سے سجدہٴ سہو لازم نہیں آتا؛ بلکہ اگر دوبارہ صحیح پڑھ لیا تو نماز درست ہوجاتی ہے۔
    (۳) نماز میں تین طرح کے افعال ہوتے ہیں :(۱) رکن جیسے قیام، رکوع، سجود قراء ت (البتہ باجماعت نماز ادا کرنے کی شکل میں مقتدی پر قراء ت نہیں ہے) قعدہٴ اخیرہ اور اپنے ارادے سے نماز سے نکلنا، مقتدی اگر ان میں سے کسی ایک کو بالکلیہ چھوڑدے یا امام سے پہلے ادا کرلے تو مقتدی کی نماز نہیں ہوگی اور سجدہٴ سہو سے بھی اس کی تلافی نہ ہوگی۔(۲) واجب جیسے التحیات قعدہٴ اولیٰ وغیرہ۔ (۳) سُنن جیسے رکوع، سجدے کی تسبیحات وغیرہ، اگر مقتدی واجبات یا سنن میں سے کسی کو بھولے سے چھوڑدے یا کسی میں غلطی کردے تو اس سے مقتدی کی نماز خراب نہ ہوگی اور اس پر سجدہٴ سہو بھی لازم نہیں؛ بلکہ نماز ادا ہوجائے گی۔ 
    (۴) نماز ی کے سامنے سے گذرنا بہت بڑا گناہ ہے؛ لیکن اس کی وجہ سے نماز پڑھنے والے (جس کے سامنے سے لوگ گزررہے ہیں) کی نماز فاسد نہ ہوگی۔
    (۵) وقت گذرنے کے بعد سنتوں کا اعادہ مشروع نہیں؛ اس لیے صورتِ مذکورہ میں آپ اللہ سے توبہ کریں، امید کہ اللہ تعالیٰ اس پر آپ کی گرفت نہ کریں گے۔
    (۶) اگر غالب گمان ہو کہ مسجد کے لیے لیے جانے والے چندوں کو مسجد کی انتظامیہ خود اپنے ذاتی استعمال میں بھی صرف کرتے ہیں تو آپ اس مسجد میں چندہ دینا بند کرسکتے ہیں؛ لیکن دوسری طرف مسجد میں چندہ دینا بھی ضروری ہے؛ اس لیے کہ مسجد کی ضروریات کی تکمیل عموماً چندے سے ہی ہوتی ہے؛ اس لیے بہتر ہے کہ کوئی شکل ایسی بنالیں جس سے آپ کے پیسے براہِ راست مسجد کی ضروریات میں لگ جائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند