• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 25153

    عنوان: کیا نماز میں دونوں سجدوں کا کرنا فرض ہے؟ یا ایک ہی سجدہ سے فرض اداہوجاتاہے؟ اگر کسی رکعت میں ایک ہی سجدہ کیا اور نماز مکمل کرنے کے بعد یادآئے تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟یا اگلی رکعت کے اندر یاد آگئے تو کیا ہوگا؟

    سوال: کیا نماز میں دونوں سجدوں کا کرنا فرض ہے؟ یا ایک ہی سجدہ سے فرض اداہوجاتاہے؟ اگر کسی رکعت میں ایک ہی سجدہ کیا اور نماز مکمل کرنے کے بعد یادآئے تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟یا اگلی رکعت کے اندر یاد آگئے تو کیا ہوگا؟

    جواب نمبر: 25153

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1368=1101-10/1431

    دونوں سجدے فرض ہیں: قال في المراقي، لأن السجود الثاني کالأول فرض بإجماع الأمة، (حاشیة طحطاوی: ۲۳۴) جب یاد آئے فوراً سجدہ کرے، جس رکن میں یاد آنے پر سجدہ کیا اس رکن کا اعادہ مستحب ہے، واجب نہیں۔ قعدہ اخیرہ کے درمیان یا اس کے بعد سجدہ کیا تو تشہد کا اعادہ واجب ہے، في البحر عن الفتح لہ أن یقضي السجدة المتروکة عقب التذکر ولہ أن یوٴخرھا إلی آخر الصلاة فیقضہا ہناک (شامي: ۱/۵۷۳) اگر سلام پھیرنے کے بعد مسجد سے نکلنے سے قبل یاد آگیا تو فوراً سجدہ کرے، پھر تشہد دوبارہ پڑھ کر سجدہ سہو کرے، اس کے بعد پھر حسب قاعدہ تشہددرود شریف اوردعا پڑھ کر سلام پھیرے۔ قال في الشامیة ولونسي السہو أو سجدة صلبیة أو تلاویة یلزم ذلک ما دام في المسجد․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند