• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 24996

    عنوان: کیا پائینچے ٹخنوں سے نیچے اگر ہورہے ہوں تو انھیں اگر موڑکر نماز پڑھ لی جائے تو پائنچے موڑنے کا عمل مکروح تحریمی کہلائیگا اور نماز واجب الاعادہ ہوگی نیز اگر کپڑے یا ٹوپی کا کوئی حصہ مڑجائے تب بھی یہی حکم ہے؟ " اس کے حوالے میں بریلوی حضرات مختلف فقہا کے اقوال نقل کرتے ہیں . 1. علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں ای کما لو دخل فی الصلوة وہو مشمر کمہ او ذیلہ واشار بذالک الی ان الکراھة لا تختص با الکف وہو فی الصلوة (ج ا ص 598) 2- وکرہ کفہ ای رفعہ ولو لتراب کمشمر کم او ذیل (درمختار) 3- جوہرہ نیرہ میں ہے ولا یکف ثوبہ وہو ان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ اذا اراد السجود قال علیہ السلام امرت ان اسجد علی سبعة اعظم لا اکف ثوبا ولا اعقص شعرا (ج ا ص81 ) 4- حضرت امام بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کف ثوب کرنے والے کی نماز مکروہ تحریمی ہے . (ج2ص91) آپ سے درخواست ہے کہ ان حوالوں کا مدلل جواب دیں اور میں سوال کی مزید وضاحت کردوں کہ اکثرلوگوں نے پینٹیں اور شلواریں ٹخنوں سے نیچی سلوائی ہوتی ہیں کیا نماز کی حالت میں پینٹوں کو نیچی سے موڑ سکتے ہیں اور شلوار کو باندھنے کی جگہ سے اڑس کر ٹخنوں سے اوپر کرسکتے ہیں ؟ مزید یہ کہ ایک شخص کی اکثر شلواریں اونچی سلی ہوئی ہیں مگر وہ نماز کی حالت کے علاوہ بھی اور نماز میں بھی یعنی ہر حالت میں اس کو باندھنے کی جگہ سے اڑس کر ٹخنوں سے اوپر رکھتا ہے کیا اب بھی اس کی نماز میں کراہت آئے گی ؟ جزاکم اللہ خیرہ

    سوال: کیا پائینچے ٹخنوں سے نیچے اگر ہورہے ہوں تو انھیں اگر موڑکر نماز پڑھ لی جائے تو پائنچے موڑنے کا عمل مکروح تحریمی کہلائیگا اور نماز واجب الاعادہ ہوگی نیز اگر کپڑے یا ٹوپی کا کوئی حصہ مڑجائے تب بھی یہی حکم ہے؟ " اس کے حوالے میں بریلوی حضرات مختلف فقہا کے اقوال نقل کرتے ہیں . 1. علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں ای کما لو دخل فی الصلوة وہو مشمر کمہ او ذیلہ واشار بذالک الی ان الکراھة لا تختص با الکف وہو فی الصلوة (ج ا ص 598) 2- وکرہ کفہ ای رفعہ ولو لتراب کمشمر کم او ذیل (درمختار) 3- جوہرہ نیرہ میں ہے ولا یکف ثوبہ وہو ان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ اذا اراد السجود قال علیہ السلام امرت ان اسجد علی سبعة اعظم لا اکف ثوبا ولا اعقص شعرا (ج ا ص81 ) 4- حضرت امام بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کف ثوب کرنے والے کی نماز مکروہ تحریمی ہے . (ج2ص91) آپ سے درخواست ہے کہ ان حوالوں کا مدلل جواب دیں اور میں سوال کی مزید وضاحت کردوں کہ اکثرلوگوں نے پینٹیں اور شلواریں ٹخنوں سے نیچی سلوائی ہوتی ہیں کیا نماز کی حالت میں پینٹوں کو نیچی سے موڑ سکتے ہیں اور شلوار کو باندھنے کی جگہ سے اڑس کر ٹخنوں سے اوپر کرسکتے ہیں ؟ مزید یہ کہ ایک شخص کی اکثر شلواریں اونچی سلی ہوئی ہیں مگر وہ نماز کی حالت کے علاوہ بھی اور نماز میں بھی یعنی ہر حالت میں اس کو باندھنے کی جگہ سے اڑس کر ٹخنوں سے اوپر رکھتا ہے کیا اب بھی اس کی نماز میں کراہت آئے گی ؟ جزاکم اللہ خیرہ

    جواب نمبر: 24996

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 93=21-2/1432

    ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا لنگی لٹکانا ان سخت گناہوں میں سے ایک ہے، جن پر جہنم کی وعید آئی ہے، بخاری شریف میں ہے: ما أسْفَل من الکعبین من الإزار في النّار (۵۷۸۷) اس لیے جائز نہیں کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرکے ٹخنے سے نیچے پاجامہ، پینٹ وغیرہ لٹکائے، عام حالات میں بھی جائز نہیں اور نماز میں تو اور زیادہ قبیح ہے۔ ”اسبال“ (ٹخنے سے نیچے پاجامہ، پینٹ وغیرہ لٹکانا) مطلقاً ناجائز ہے، اگرچہ ”سُبْل“ (لٹکانے والا) یہ ظاہر کرے کہ میں تکبر کی وجہ سے نہیں کررہا ہوں، ہاں اگر غیراختیاری طور پر ایسا ہوجائے یا کسی یقینی قرینہ سے معلوم ہوکہ اس میں کبر نہیں تو بھی یہ حکم نہیں لگے گا، جیسا کہ حضرتِ ابوبکر کے واقعہ میں ہے؛ لہٰذا تکبر اور غیر تکبر کے درمیان فرق کرنا، ایک کو ناجائز اوردوسرے کو جائز کہنا یا ایک کو مکروہِ تحریمی اور دوسرے کو تنزیہی شمار کرنا، شراحِ حدیث کی تصریح کے مطابق صحیح نہیں؛ اس لیے کہ حدیث کے اندر ٹخنے سے نیچے ازار وغیرہ لٹکانے اوراس کے کھینچنے کو تکبر کی علامت قراردی گئی ہے، چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ”إیّاک وجرّ الإزار؛ فإنّ جر الإزار من المخیلة“ (فتح الباری: ۱۰/۲۵۹) اور جن احادیث کے اندر ”خیلاء“ کی قید مذکورہے یہ قید احترازی نہیں؛ بلکہ قید اتفاقی یا واقعی ہے کہ ”ازار لٹکانے والا“ متکبر ہی ہوتا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ اور پینٹ پہننے میں عار آتی ہے یا ایسے پہننے والوں کو نظرِ حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں، اس بابت ان سے مضحکہ بھی کرتے ہیں، ذیل کی حدیثوں سے مذکورہ باتوں کی تائید ہوتی ہے:
    (۱) عن عمرو بن زرارة: ضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بأربع أصابع تحت رکبة عمرو فقال یا عمرو! ہذا موضع الإزار ثم ضرب بأربع أصابع تحت الأربع فقال یا عمرو! ہذا موضع الإزار، الحدیث، یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضرت عمرو بن زرارة ازار کے لٹکانے کے ذریعہ تکبر کا ارادہ نہیں کرتے تھے، اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
    (۲) عن عبید بن خالد قال کنت أمشي وعلي برد أجرّہ فقال لي رجل ارفع ثوبک فإنہ أتقی وأبقی، فنظرت فإذا ہو النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقلت إنما ہي بردة ملحاء فقال أمالک یا أسوة، فنظرت فإذا إزارہ إلی أنصاف ساقیہ وفي روایة عن عمرو بن زرارة: إن اللہ لا یحبّ المُسْبِل․ چنانچہ مشہور شارح بخاری علامہ بن حجر، طویل بحث کے بعد لکھتے ہیں: وحاصلہ إن الإسبال یستلزم جرّ الثوب وجرّ الثوب یستلزم الخیلاء ولو لم یقصد اللابس الخُیَلاء․ 
    یعنی خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسبال (مطلقاً) جرّ ثوب یعنی کپڑا گھسیٹنے کو مستلزم ہے اورجرّ ثوب تکبر کو مستلزم ہے، اگرچہ پہننے والا، تکبر کا ارادہ نہ کرے (فتح الباری: ۱۰/ ۲۵۶) اور ابن العربی لکھتے ہیں: لا یجوز للرجل أن یجاوز بثوبہ کعبَیہ ویقول لا أجرّہ خیلاء؛ لأن الحدیث قد تناولہ لفظًا ولا یجوز لمن تناولہ اللفظ حکما أن یقول: لا أمتثلہ؛ لأن تلک العلّة لیست فيّ؛ فإنہ دعوی غیر مسلمة بل إطالتہ ذیلہ دالة علی تکبّرہ یعنی ٹخنے سے نیچے پاجامہ پینٹ وغیرہ لٹکانا کسی کے لیے جائز نہیں، اگرچہ وہ کہے کہ میں تکبراً ایسا نہیں کرتا؛ اس لیے کہ یہ ایک ناقابل قبول دعویٰ ہے؛ بلکہ ازار لٹکانا بذات خود تکبر کی دلیل ہے۔ مذکورہ بالا بحث سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اسبال مطلقاً ناجائز ہے الایہ کہ کسی یقینی ذریعے سے تکبر کا نہ ہونا معلوم ہوجائے۔ تو یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں کہ پائینچے ٹخنوں سے نیچے لٹکتی ہوئی حالت میں نماز مکروہ تنزہی ہے، بلکہ نماز میں لٹکانا بھی مکروہ تحریمی ہے اور حدیث کے اندر آیا ہے کہ جو آدمی ازار لٹکاکر نماز پڑھے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، عن أبي ہریرة : بینما رجل یصلّي مسبلا إزارہ إذ قال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اہب فذہب فتوضّأ ثم جاء ثم قال اذہب فتوضأ ثم جاء فقال لہ رجل یا رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - مالک أمرتہ أن یتوضّأ؟ قال إنہ کان یصلّی وہو مُسبل إزارہ وإن اللہ جل ذکرہ لا یقبل صلاة مُسبل إزارہ أخرجہ أبوداوٴد یعنی ایک نے ازار لٹکاکر نماز پڑھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، اس آدمی (مُسْبِل) سے کہا کہ جاوٴ وضو کرکے آوٴ، ایسا کیا، پھر حضور نے کہا جاوٴ وضو کرکے آوٴ، تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول: آپ نے ایسا کیوں حکم دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ شخص ازار لٹکاکر نماز پڑھ رہا تھا، اللہ جل شانہ ازار لٹکاکر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں کرتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی آدمی، اس گناہ کا مرتکب ہوتا ہے یعنی لنگی، پینٹ وغیرہ ٹخنے سے نیچے لٹکاکر پہنتا ہے؛ لیکن بہ وقت نماز پائینچے کو اوپر چڑھالیتا ہے تاکہ نماز کے وقت کم ازکم گناہ سے بچے اور اس حدیث کا مصداق نہ بنے او راس کی نماز اللہ کے یہاں مقبول ہوجائے تو یہ فعل مستحسن ہوگا نہ کہ مکروہ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بہ وقت نماز پائنچے کو اوپر چڑھاکر نماز پڑھنے کو مکروہِ تحریمی کہنا نہ تو شرعاً صحیح اور نہ عقلاً، سوال میں فقہاء کی جن عبارتوں اور ترمذی کی جس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے، ان سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی، ذیل میں وہ عبارتیں ذکر کی جاتی ہیں: 
    (۱) کمشمرکم أو ذیل أي کما لو دخل في الصلاة وہو مشمّر کمّہ أو ذیلہ وأشار بذلک إلی أن الکراہة لا تختص بالکفّ وہو في الصّلاة (رد المحتار: ۲/۴۰۷) 
    (۲) ولا یکفّ ثوبہ وھو أن یرفعہ من بین یدیہ أو من خلفہ إذا أراد السجود۔
    (۳) قال - علیہ السلام - أمرت أن أسجد علی سبعة أعظم لا أکف ثوبًا ولا أعقص شعرًا۔ 
     حدیث شریف اور فقہی عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مصلی یعنی نماز پڑھنے والے کے لیے مکروہ ہے کہ وہ آستین چڑھاکر نماز میں داخل ہو یا دوران نماز اپنے کپڑے کو آگے پیچھے سے سمیٹے تاکہ مٹی وغیرہ نہ لگے یا پہلے سے کپڑے کو اٹھائے رکھے، مٹی سے بچانے یا اظہار تکبر کے مقصد سے، چنانچہ کنز کی مشہور شرح تبیین الحقائق: ۱۶۴میں مکروہ ہونے کی علت لکھی ہے: لأنہ نوع تجبُّرٍ یعنی کراہت اظہار تکبر کی وجہ سے ہے۔ اوراس کے حاشیے میں ”کف الثوب“ کے تحت لکھا ہے: وہو أن یضم أطرافہ اتقاء التراب: ۱۶۴۔ اسی طرح ہدایہ میں بھی اس کی علت ”لأنہ نوع تجبر“ لکھی ہے۔ 
    حاصل یہ ہے کہ کف ثوب کا یا تو یہ مطلب ہے کہ دوران نماز کپڑا سمیٹے ”صاحب غنیة المستملی“ نے یہی تفسیر کی ہے، اس صورت میں کراہت کی وجہ نماز میں دوسرے کام میں مشغول ہونا ہے یا یہ مطلب ہے کہ مطلقا کف ثوب مکروہ ہے خواہ دوران نماز ہو، یا کپڑا سمیٹ کر نماز میں کھڑا ہو تو اسکی وجہ ایک تو اظہار بڑکپن ہے یا نماز میں عبث کے اندر مشغول ہونا ہے۔ نیز شامی کی عبارت ”کمشمرکم“ (یعنی آستین چڑھاکر نماز پڑھنا) سے پائینچے وغیرہ کو چڑھاکر نماز پڑھنے کی کراہت پر استدلال صحیح نہیں؛ اس لیے کہ آستین چڑھاکر نماز پڑھنے کا کوئی شرعی مقصد نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے تکبر اور بے ادبی ٹپکتی ہے، برخلاف نمازکے لیے پائینچے چڑھانا، یہ ایک نیک مقصد یعنی کم ازکم دورانِ نماز گناہ سے بچنے کے لیے ہے او راس میں نہ تو تکبر ہے اور نہ ہی بے ادبی ہے، الغرض ان عبارات سے اس پر استدلال کرنا کہ نماز پڑھنے کے وقت پائینچے کو اوپر چڑھانامکروہِ تحریمی ہے، صحیح نہیں ہے۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند