• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 24830

    عنوان: کیا ہم غیرمقلد کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر پڑھ سکتے ہیں تو اس کی شریعت میں کیا حقیقت ہے؟ اگر کسی شخص کی داڑھی ایک مشت سے کم ہے تو کیا اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟ اور اگر کسی کے قرآن کے مخارج صحیح نہیں ہیں تو کیا اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی یا نماز صحیح ہوگی؟ براہ کرم، جواب دیں۔ 

    سوال: کیا ہم غیرمقلد کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر پڑھ سکتے ہیں تو اس کی شریعت میں کیا حقیقت ہے؟ اگر کسی شخص کی داڑھی ایک مشت سے کم ہے تو کیا اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟ اور اگر کسی کے قرآن کے مخارج صحیح نہیں ہیں تو کیا اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی یا نماز صحیح ہوگی؟ براہ کرم، جواب دیں۔ 

    جواب نمبر: 24830

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1329=310k-10/1431

    یہ شخص اگر تقلید کو شرک نہ سمجھتا ہو، ائمہ اربعہ کی شان میں گستاخی نہ کرتا ہو۔ امور خلافیہ میں حنفیہ کی رعایت کرتا رہے جیسے خارج من غیر السبیلین نجس سے بھی وضو کرلیتا ہو وغیرہ تو نماز اس کے پیچھے جائز ہے۔ ورنہ نہیں۔
    (۲) مکروہ تحریمی ہے۔ 
    (۳) صحیح کرنے کی کوشش کرنا اس پر ضروری ہے۔ باقی نماز کی صحت اور عدم صحت کا حکم اس وقت کیا جاسکے گا جب یہ معلوم ہو کہ کمی کس نوعیت کی ہے اور کتنی ہے، پھر اس کے صحیح کرنے کی وہ کوشش کررہے ہیں یا نہیں؟ اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ اوصاف امامت میں جو کامل ہو امام ایسے کو ہی مقرر کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند