• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 24325

    عنوان: میرا سوال نماز اور وضو سے متعلق ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ کوئی بیماری ہے یا کچھ اور لیکن میں اس کی قضاحت کر دیتا ہوں آپ مجھے اس کا شرعی حل بتا دیجیے گا۔ جب میں نماز پڑھتا ہوں خاص کر باجماعت نماز تو دوران سجدہ یا رکوع مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہوتا ہے جیسے میرا وضو ٹوٹ رہا ہو اور ہوا کا اخراج ہو رہا ہو۔ بعغ دفع ہوا نہیں ہوتی لیکن اس جیسا احساس ضرور وتا ہے اور بعض دفعہ ہوا بھی ہوتی ہے لیکن اس قابل نہیں کہ محسوس ہو۔ بغیر جماعت کے تو میں دوبارہ وضو بنا کر نماز پڑھ سکتا ہوں لیکن باجماعت نماز کے دوران میری حالت ابتر ہو جاتی ہے اور بس خاموشی سے ہاتھ بنادھے چپ کر کے مولانا صاح کو فالو کر رہا ہوتا ہوں۔ میں نے یہ پوچھنا ہے کہ مجھے اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔ نماز جاری رکھنی چاہیے یا وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے 

    سوال: میرا سوال نماز اور وضو سے متعلق ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ یہ کوئی بیماری ہے یا کچھ اور لیکن میں اس کی قضاحت کر دیتا ہوں آپ مجھے اس کا شرعی حل بتا دیجیے گا۔ جب میں نماز پڑھتا ہوں خاص کر باجماعت نماز تو دوران سجدہ یا رکوع مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہوتا ہے جیسے میرا وضو ٹوٹ رہا ہو اور ہوا کا اخراج ہو رہا ہو۔ بعغ دفع ہوا نہیں ہوتی لیکن اس جیسا احساس ضرور وتا ہے اور بعض دفعہ ہوا بھی ہوتی ہے لیکن اس قابل نہیں کہ محسوس ہو۔ بغیر جماعت کے تو میں دوبارہ وضو بنا کر نماز پڑھ سکتا ہوں لیکن باجماعت نماز کے دوران میری حالت ابتر ہو جاتی ہے اور بس خاموشی سے ہاتھ بنادھے چپ کر کے مولانا صاح کو فالو کر رہا ہوتا ہوں۔ میں نے یہ پوچھنا ہے کہ مجھے اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔ نماز جاری رکھنی چاہیے یا وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے 

    جواب نمبر: 2432501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1209=253-8/1431

    جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے دوران اگر وضو ٹوٹنے کا ظن غالب یا یقین ہوجائے تو اب نماز میں شامل رہنا جائز نہیں، سخت گناہ ہے بلکہ حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر جماعت سے باہر نکل آئے، لہٰذا ایسا ہی کرلیا جائے، صفوں کے بیچ سے بھی نکل سکتے ہیں اور اپنے سے پیچھے والے کو اپنی جگہ کھڑا کریں پھر اس کے بعد والی صف کے آدمی کو اس جگہ اسی طرح کرتے ہوئے باہر نکل آئیں۔ کسی سے بات چیت نہ کریں، وضو کرکے خواہ از سر نو پوری نماز پڑھ لیں یا اسی نماز پر بنا کرلیں، یعنی جتنی پڑھ چکے تھے اس کے آگے کی مابقی پڑھ لیں لیکن جس رکن میں وضو ٹوٹا تھا اسے دوبارہ ادا کریں۔
    اور اگر جماعت کی نماز ابھی ختم نہ ہوئی ہو تو اس دوران جس قدر حصہ امام نے ادا کیا ہے اسے پورا کرکے پھر امام کے ساتھ بقیہ نماز ادا کریں، بہتر ہے کہ بنا کرنے کا طریقہ کسی عالم سے سمجھ لیں اور دقت محسوس کریں تو استیناف (از سر نو پڑھنا) کرنا ہی بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند