• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 23695

    عنوان: حوالہ سے بتائیں کہ عورتوں اور مردوں کی نماز میں کیا فرق ہے؟ اور ہم ایئر پورٹ یا دوسری جگہوں پر پردے کی وجہ سے نقاب ڈال کر نماز پڑھتے ہیں توکچھ لوگ اعتراض کہتے ہیں، سجدہ میں پیشانی زمین پر لگے، نقاب کی وجہ سے کپڑا درمیان میں آجاتاہے، اسی طرح مزدلفہ میں بھی مردوں کی موجودگی میں نماز کیسے پڑھیں؟ کیپ کے ساتھ جو پردہ ہوتاہے اس سے سجدہ کرنے میں دقت ہوتی ہے اور کیپ گر جائے تو اسے سیدھی کرنے کی وجہ سے نماز میں کوئی نقص نہیں ہوتا؟ کچھ لوگ کہتے ہیں نماز میں نماز کے علاوہ کوئی حرکت نہیں ہونی چاہئے؟ اور بے پردہ نماز پڑھنے میں بھی جھجھک ہوتی ہے۔مردوں کا آناجانا لگا رہتا ہے۔ براہ کرم، جواب دیں۔

    سوال: حوالہ سے بتائیں کہ عورتوں اور مردوں کی نماز میں کیا فرق ہے؟ اور ہم ایئر پورٹ یا دوسری جگہوں پر پردے کی وجہ سے نقاب ڈال کر نماز پڑھتے ہیں توکچھ لوگ اعتراض کہتے ہیں، سجدہ میں پیشانی زمین پر لگے، نقاب کی وجہ سے کپڑا درمیان میں آجاتاہے، اسی طرح مزدلفہ میں بھی مردوں کی موجودگی میں نماز کیسے پڑھیں؟ کیپ کے ساتھ جو پردہ ہوتاہے اس سے سجدہ کرنے میں دقت ہوتی ہے اور کیپ گر جائے تو اسے سیدھی کرنے کی وجہ سے نماز میں کوئی نقص نہیں ہوتا؟ کچھ لوگ کہتے ہیں نماز میں نماز کے علاوہ کوئی حرکت نہیں ہونی چاہئے؟ اور بے پردہ نماز پڑھنے میں بھی جھجھک ہوتی ہے۔مردوں کا آناجانا لگا رہتا ہے۔ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 23695

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1307=1045-7/1431

    مردوں اورعورتوں کی نماز میں پہلا فرق یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت مرد کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور عورتیں صرف کندھوں تک۔(۲) دوسرا فرق یہ ہے کہ مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینہ پر اس طرح ہاتھ رکھیں کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر ہو، چھوٹی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنائے۔ (۳) تیسرا فرق یہ ہے کہ مرد رکوع میں اس طرح جھکے کہ سر پیٹھ اور سرین سب برابر ہوجائیں اور عورت صرف اتنا جھکے کہ ہاتھ گھٹنے تک پہنچ جائے، پیٹھ سیدھی نہ کرے۔ (۴) چوتھا فرق یہ ہے کہ رکوع میں مرد اپنے بازووٴں کو پہلو سے الگ رکھے اور کھل کر رکوع کرے، بخلاف عورت کے کہ وہ اپنے بازو کو پہلو سے خوب ملائے اور دونوں پاوٴں کے ٹخنے ملادے، جتنا ہوسکے اتنا سکڑکر سجدہ کرے۔ (۵) پانچواں فرق یہ ہے کہ سجدہ میں عورتیں مردوں کی بہ نسبت پیٹ کو رانوں سے بازووٴں کو بغل سے ملا ہوا رکھیں، کہنیاں اور کلائیاں زمین پر بچھادیں دونوں پاوٴں داہنی جانب نکال کر خوب سمٹ کر سجدہ کریں۔ (۶) چھٹا فرق یہ ہے کہ عورتیں قعدہ میں اپنے دونوں پاوٴں داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھیں۔ ہکذا في کتب الفقہیة من الشامي والبحر ومراقي الفلاح․
    (۲) سجدہ میں زمین پرپیشانی لگنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھنے والے کی پیشانی کو زمین کی سختی کا احساس ہوجائے اور نماز کا کپڑا پیشانی کے نیچے آنے کے باوجود پیشانی کو زمین کی سختی کا احساس رہتا ہے لہٰذا آپ بلا کسی تردد کے ایرپورٹ وغیرہ پر نقاب کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہیں، لوگوں کا اعتراض کرنا صحیح نہیں۔
    (۳) البتہ مزدلفہ وغیرہ میں آپ لوگ جو کیپ لگاتی ہیں تو اس کیپ کی وجہ سے پیشانی زمین پر نہیں لگتی ہے بلکہ زمین اور پیشانی کے درمیان کافی خلا رہتا ہے، لہٰذا آپ لوگ ایک کنارہ پر بلا کیپ ہی کے نماز پڑھ لیا کریں اور نماز کے بعد کیپ لگالیا کریں، جب شریعت نے ان ایام میں رخصت دی ہے تو اس پر عمل کرنے میں کوئی وبال آپ پر نہیں ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند