• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 23584

    عنوان: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے کسی رکن میں خاموش رہنا ثابت ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر جماعت کی نماز میں ، جلسے میں اذکار کیوں مسنون نہیں؟ تین چار سیکنڈ اگر ہر رکعت میں زیادہ لگ جائے تو کیا اس سے مقتدیوں کو گرانی ہوگی؟جب کہ بعض مرتبہ ائمہ مساجد قرأت میں کئی منٹ زیادہ لگادیتے ہیں اور قیام و جلسے سے زیادہ گرانی کا سبب ہوتاہے، پھر جلسے میں اذکار کی ترغیب کیوں نہیں دی جاتی ؟ حالانکہ وہ بھی رکوع اور سجدے ہی کی طرح مسنون اذکار ہیں؟

    سوال: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے کسی رکن میں خاموش رہنا ثابت ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر جماعت کی نماز میں ، جلسے میں اذکار کیوں مسنون نہیں؟ تین چار سیکنڈ اگر ہر رکعت میں زیادہ لگ جائے تو کیا اس سے مقتدیوں کو گرانی ہوگی؟جب کہ بعض مرتبہ ائمہ مساجد قرأت میں کئی منٹ زیادہ لگادیتے ہیں اور قیام و جلسے سے زیادہ گرانی کا سبب ہوتاہے، پھر جلسے میں اذکار کی ترغیب کیوں نہیں دی جاتی ؟ حالانکہ وہ بھی رکوع اور سجدے ہی کی طرح مسنون اذکار ہیں؟

    جواب نمبر: 23584

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1029=252-8/1431

    جلسہ یا قومہ میں چونکہ فرض نمازوں میں کوئی ذکر مواظبت کے ساتھ ثابت نہیں ہے لہٰذا جلسہ یا قومہ کا ذکر فرض نمازوں میں جماعت کے ساتھ امام کے لیے مسنون نہیں ہے، قراء ت مسنونہ کی وجہ سے نماز میں تاخیر باعث اشکال نہیں کیونکہ قراء ت کی اتنی مقدار جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، البتہ جلسے اور قومہ کی دعائیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مواظبةً فرض نمازوں میں جماعت کے ساتھ ثابت نہیں ہے اس لیے ان کو پڑھنے میں حرج ہے، نیز جلسے اور قومے کی دعائیں رکوع وسجدہ کے اذکار کی طرح مسنون نہیں ہیں، لہٰذا فرض نماز میں اگر مقتدیوں پر جلسہ یا قومہ کی دعائیں پڑھنے کے سبب گرانی اور بوجھ کا اندیشہ ہو تو ان کو نہیں پڑھنا چاہیے: کما في البحر الرائق ولم یذکر المصنف بین السجدتین ذکرًا مسنونًا وھو المذہب عندنا وکذا بعد الرفع من الرکوع وما ورد فیھا من الدعاء محمول علی التہجد قال یعقوب سألت أبا حنیفة عن الرجل یرفع رأسہ من الرکوع في الفریضة أیقول اللہم اغفر لي قال یقول ربنا لک الحمد وسکت وکذلک بین السجدتین فقد أحسن حیث لم ینھہ عن الاستغفار صریحًا من قوة احترازہ (البحر الرائق: ۱/۵۶۱، کتاب الصلاة، باس صلة الصلاة، زکریا) وفي الدر المختار ویجلس بین السجدتین مطمئنًا ولیس بینہما ذکر مسنون علی المذہب وماورد محمول علی النفل وفي الشامي تحتہ محمول علی النفل أي تہجدًا أو غیرہ ثم الحمل المذکور صرح بہ المشائخ في الوارد في الرکوع والسجود وصرح بہ في الحلیة في الوارد في القومة والجلسة وقال علی أنہ إن ثبت في المکتوبة فلیکن في حالة الإنفراد أو الجماعة والمأمومون محصورون لا یتثقلون بذلک (کتاب الصلاة، فصل إذا أراد الشروع: ۲/۲۱۲، زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند