• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 22781

    عنوان: میری پیدائش جنوری 1981میں ہوئی، مجھے منی آناشروع ہوئی 1994سے تو کیا یہ بالغ ہونے کا سال شروع ہوجائے گا؟ اندازاً اب 1994سے آج کی تاریخ تک کل نماز ہوئی 5886وقت ظہر کی اسی طرح عصر ، مغرب اورفجر۔ بیچ بیچ میں کئی دنوں تک پڑھا پھر چھوٹ گئی۔ فجر تواکثر ہی غائب رہی۔ تو اب قضا نمازیں ساری پڑھنی ہیں تو اسے کس طرح پڑھوں میں کسی بھی وقت اسے پڑھ سکتا ہوں جیسے دن میں دس بجے سے شروع کیا اور ظہر تک پڑھتا رہا اس میں ایک ہفتہ تک جتنی بھی نمازظہر کی ہوتی وہ چار چار رکعت کر کے پڑھ لوں پھر اسی طرح عصر مغرب عشاء کی۔ کیا میں اس طرح پڑھ سکتا ہوں؟

    سوال: میری پیدائش جنوری 1981میں ہوئی، مجھے منی آناشروع ہوئی 1994سے تو کیا یہ بالغ ہونے کا سال شروع ہوجائے گا؟ اندازاً اب 1994سے آج کی تاریخ تک کل نماز ہوئی 5886وقت ظہر کی اسی طرح عصر ، مغرب اورفجر۔ بیچ بیچ میں کئی دنوں تک پڑھا پھر چھوٹ گئی۔ فجر تواکثر ہی غائب رہی۔ تو اب قضا نمازیں ساری پڑھنی ہیں تو اسے کس طرح پڑھوں میں کسی بھی وقت اسے پڑھ سکتا ہوں جیسے دن میں دس بجے سے شروع کیا اور ظہر تک پڑھتا رہا اس میں ایک ہفتہ تک جتنی بھی نمازظہر کی ہوتی وہ چار چار رکعت کر کے پڑھ لوں پھر اسی طرح عصر مغرب عشاء کی۔ کیا میں اس طرح پڑھ سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 22781

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):917=772-7/1431

    (۱) جب منی آنا شروع ہوگئی تو آپ بالغ ہوگئے اور آپ پر نماز روزہ وغیرہ فرض ہوگئے۔
    (۲) جن ایام کی نماز پڑھ چکے ہیں ان کو اندازہ کرکے حساب سے الگ کرلیں اور بقیہ ایام کی نمازیں قضا کریں۔
    (۳) وتر کی نماز بھی قضا کرنی ہے لہٰذا قضا نمازوں کے حساب میں اس کو بھی جوڑلیں۔
    (۴) قضا نماز ادا کرنے کا کوئی طریقہ بھی اختیار کرسکتے ہیں جو آپ نے لکھا ہے وہ بھی البتہ اس کا دھیان رکھیں کہ طلوع، غروب اورنصف النہار کا وقت نہ ہو اس کے علاوہ کسی بھی وقت نماز قضا کرسکتے ہیں، بہتر یہ ہے کہ ہروقتی نماز کے ساتھ وہی پچھلی نماز قضا بھی پڑھ لیں اور ایک کاپی بنالیں جس میں ادا شدہ نمازکی حاضری () بھر دیا کریں، تو حساب کرنا آسان ہوگا، نیز ہرقضا نماز سے پہلے اس کی نیت ضروری ہے، اس کا خاص خیال رکھیں اور نیت کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس طرح نیت کریں کہ میرے ذمہ ظہر کی سب سے پہلی جو نماز ہے اسے ادا کرتا ہوں اسی طرح دوسری نمازوں کی نیت کریں۔ کما صرح الفقہاء بذلک کلہ في کتب الفقہ، وفي الہندیة: وکثرة الفوائت کما تسقط الترتیب في الأداء تسقط في القضاء حتی لو ترک صلاة شہر ثم قضی ثلاثین فجرًا ثم ثلاثین ظہرًا ثم ہکذا صح، ہکذا في محیط السرخسي (الہندیة: ۱/۱۲۳، الباب الحادي عشر) وفي نور الإیضاح: وإذا کثرت الفوائت یحتاج لتعیین کل صلاة، فإن أراد تسہیل الأمر علیہ نوی أول ظہر علیہ أو آخرہ (نور الإیضاح: ۴۵، باب قضاء الفوائت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند