• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 22018

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ نماز کے بعد جو دعا مانگتے ہیں وہ امام کو آہستہ آواز میں مانگنی چاہیے یا بلند آواز سے جب کہ لوگ نماز ادا کررہے ہوں؟ برائے کرم رہنمائی فرماویں۔

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ نماز کے بعد جو دعا مانگتے ہیں وہ امام کو آہستہ آواز میں مانگنی چاہیے یا بلند آواز سے جب کہ لوگ نماز ادا کررہے ہوں؟ برائے کرم رہنمائی فرماویں۔

    جواب نمبر: 22018

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 765=556-5/1431

     

    امام کے سلام پھیرتے ہی امام اور مقتدی کا جو علاقہ ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور امام ومقتدی سب بحیثیت منفرد ہوجاتے ہیں ایسے میں دعاء کا جو عام ضابطہ ہے کہ دعاء سراً کی جائے اس کی رعایت کرنی چاہیے اور امام ومقتدی تمام حضرات کو سراً دعا کرنی چاہیے۔ بلند آواز سے دعا نہ مانگنی چاہیے: لقولہ علیہالسلام: خیر الدعاء الخفي رواہ ابن حبان في صحیحہ کذا في البحر الرائق (إعلاء السنن: ۶/۹۳، ط کراچی پاکستان) وفي فتاوی قاضي خان: لأن الأصل في الأذکار والدعاء ہو الإخفاء (فتاویٰ قاضي خان علی ہامش الہندیة: ۱/۲۴۵) البتہ امام اگر کسی وقت لوگوں کو دعا کی تعلیم کے لیے جہراًعا کرادے تو اس کی گنجائش ہے، مستقلاً اس کی عادت نہ بنائی جائے، بالخصوص جب کہ جہراً دعا کرانے سے مقتدیوں کی نماز میں خلل پیدا ہوتا ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند