• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 21697

    عنوان:

    مردوں اور عورتوں کی نماز میں جو فرق ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ مثلا سجدہ، رکوع، نیت باندھنا؟

    سوال:

    مردوں اور عورتوں کی نماز میں جو فرق ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ مثلا سجدہ، رکوع، نیت باندھنا؟

    جواب نمبر: 21697

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 663=537-5/1431

     

    عورت کے لیے تستر بہر حال شریعت مقدسہ میں مطلوب ہے، اسی وجہ سے فقہائے احناف نے عورت کو نماز میں وہی ہیئت اختیار کرنے کا حکم دیا جس میں تستر زیادہ ہو، نیت باندھنے کے تعلق سے حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ نیت باندھنے کے لیے اپنے مونڈھوں کے مقابل ہاتھ لے جاتی تھیں: عن عبد ربہ بن سلیمان بن عمیر قال: رأیت أم الدرداء رضي اللہ عنہا - وہي الکبر الصحابیة - ترفع یدیہا في الصلاة حذو منکبیہا (إعلاء السنن، ۲/۱۵۷،کراچی) طبرانی میں ایک حدیث ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ عورت کو اپنا ہاتھ سینہ کے نیچے باندھنا چاہیے گو کہ وہ ضعیف ہے، مگر شریعت کے اصول کے موافق ہونے کی وجہ سے احناف نے اس کو لیا ہے اور اسی کو لائق عمل بتایا ہے، وہ حدیث یہ ہے: عن وائل بن حجر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم یا ابن حجر! إذا صلیت فاجعل یدیک حذاء أذنیک، والمرأة تجعل یدیہا حذاء ثدیہما رواہ الطبراني في حدیث طویل (إعلاء السنن: ۲/۱۵۶، ط: کراچی) رکوع میں بھی استر والی ہیئت کو اختیار کیا گیا ہے: قال في الشامیة: وتنحني في الرکوع قلیلاً في ولا تعقد، ولا تفرج فیہ أصابعہا بل تضمہا، وتضع یدیہا علی رکبتیہا ولا تحنی رکبتیہا وتنضم في رکوعہا وسجودہا (شامي: ۲/۲۱۱، ط: زکریا) امام ابوداوٴد نے اپنی مراسیل میں یہ روایت نقل کی ہے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر دو عورتوں کے پاس سے ہوا جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو بعض گوشت کو زمین سے ملاوٴ کیوں کہ اس میں عورت کا حکم مرد سے مختلف ہے: عن یزید بن أبي حبیب أنہ صلی اللہ علیہ وسلم مر علی امرأتین تصلیان، فقال: إذا سجدتما فضمّا بعض اللحم إلی الأرض؛ فإن المرأة في ذلک لیست کالرجل (إعلاء السنن: ۳/۱۹، ط: کراچی) یہ حدیث مرسل ہے او راحناف کے نزدیک مرسل حدیث قابل احتجاج ہوتی ہے، اس کی تائید دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے، جس کو ابن عدی نے روایت کیا ہے، مزید یہ کہ قیاس بھی اس بات کا متقاضی ہے عورت کی ہیئت سجدہ مرد سے مختلف ہو کیوں کہ اس میں تستر ہے: قال العلامة ظفر العثماني والقیاس أیضا یقتضي مخالفة ہیئة المرأة في جلوسہا وسجودہا عن ہیئة الرجال؛ لکون مبنی أحوالہن علی التستر،و الأحادیث المذکورة موٴیدة لہ (إعلاء السنن: ۳/۲۴، کراچی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند