• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 2108

    عنوان: میں نماز کے بارے میں جاننا چاہتاہوں ، میں جڑوڈا (میرٹھ) کا رہنے والاہوں ۔ آجکل میں شارجہ ،میں رہتاہوں ۔ عرب امارات میں طریقہ نماز مختلف ہے، کیا میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہوں یانہیں ؟ براہ کرم، میری رہ نمائی فر مائیں۔

    سوال: میں نماز کے بارے میں جاننا چاہتاہوں ، میں جڑوڈا (میرٹھ) کا رہنے والاہوں ۔ آجکل میں شارجہ ،میں رہتاہوں ۔ عرب امارات میں طریقہ نماز مختلف ہے، کیا میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہوں یانہیں ؟ براہ کرم، میری رہ نمائی فر مائیں۔

    جواب نمبر: 2108

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 679/ م= 674/ م

     

    جس امام کی اقتداء میں آپ نماز پڑھنا چاہتے ہیں ان کے متعلق اگر یہ تحقیق و یقین ہو کہ وہ فرائض و واجبات میں مذہب مخالف کی رعایت کرتے ہیں مثلاً فصد، قئ اور رُعاف وغیرہ امور جو احناف کے یہاں نواقض وضو ہیں، کی وجہ سے اگر وہ وضو کرنے کا اہتمام کرتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز بلاکراہت درست ہے اور تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ ان کی اقتداء میں نماز پڑھیں، اور اگر آپ کے علم میں امام ان چیزوں کی رعایت نہیں کرتے جو ناقض وضو یا مفسد نماز ہیں تو ایسے امام کی اقتداء درست نہیں، ایسی صورت میں یا تو اپنے حنفی مسلک کے چند لوگ مل کر الگ جماعت کرلیا کریں اور اگر آپ تنہا ہوں کوئی اور نہیں تو الگ نماز پڑھ لیا کریں۔ شامی میں ہے: وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع کالشافعي فیجوز ما لم یعلم منہ ما یفسد الصلاة علی اعتقاد المقتدي، علی الإجماع، إنما اختلف في الکراھة․․․ وفي رسالة (الاھتداء في الاقتداء) لملاّ علي القاري: ذھب عامة مشایخنا إلی الجواز إذا کان یحتاط في موضع الخلاف، وإلا فلا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند