• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 20866

    عنوان:

    کیا نماز کسوف کوئی اکیلا پڑھ سکتا ہے؟ (۲) اگر کسی پر سجدہٴ سہو واجب نہیں تھا، اس نے کرلیا اس لیے کہ اس کو شک ہوگیا کہ شاید سجدہٴ سہو واجب ہوگیا ہو یا بھولے سے ایسا کرے؟ (۳) اگر کوئی نماز میں ایسی تلاوت کرے کہ اس کو بعض وقت اپنے پڑھنے کی بہت خفیف آواز آئے، اور اس سے یہ صحیح طور پر نہ سمجھ سکے کہ کیا پڑھ رہا ہے یا کبھی بعض حرفوں کی آواز سنائی ہے، کیا نماز صحیح ہوگئی؟

    سوال:

    کیا نماز کسوف کوئی اکیلا پڑھ سکتا ہے؟ (۲) اگر کسی پر سجدہٴ سہو واجب نہیں تھا، اس نے کرلیا اس لیے کہ اس کو شک ہوگیا کہ شاید سجدہٴ سہو واجب ہوگیا ہو یا بھولے سے ایسا کرے؟ (۳) اگر کوئی نماز میں ایسی تلاوت کرے کہ اس کو بعض وقت اپنے پڑھنے کی بہت خفیف آواز آئے، اور اس سے یہ صحیح طور پر نہ سمجھ سکے کہ کیا پڑھ رہا ہے یا کبھی بعض حرفوں کی آواز سنائی ہے، کیا نماز صحیح ہوگئی؟

    جواب نمبر: 20866

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 636=508-4/1431

     

    اگر دوسرے مسلمان جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اکیلا بھی نماز کسوف پڑھ سکتا ہے۔

    (۲) محض شک کی بنیاد پر سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی واجب نماز میں بھولے سے ترک ہوگیا تو سجدہٴ سہو واجب ہوگا۔

    (۲) جی ہاں ایسی صورت میں بھی نماز صحیح ہوگئی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند