• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 20272

    عنوان:

    میں علی گڑھ کا رہنے والا ہوں، لیکن کام کی خاطر میں ریاض میں رہ ہاہوں ۔ اگر علی گڑھ آؤں تو کیا میں قصر ادا کروں یا پوری نماز پڑھوں کیونکہ یہ میرا گھر ہے؟ میر ا خیال یہ ہے کہ قصر نماز ہوگی اس حدیث کی بناء پر جو بخاری ، جلددوم، حدیث نمبر187 /باب القصر ، یحی بن اسحاق سے مروی ہے کہ میں نے انس سے سنا کہ:? ہم لوگ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ سفر کرتے تھے اور دو رکعت اداکرتے تھے(ہر نماز میں) یہاں تک ہم مدینہ لوٹ آتے تھے? میں نے کہا: ? کیاآپ لوگ مدینہ میں رکتے تھے؟? انہوں نے جواب دیا: ? ہم لوگ مدینہ میں دس دن تک رکتے تھے?۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے تھے، لیکن کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد میں تذبذب میں پڑگیا، چونکہ انہوں نے کہا کہ ریاض تمہارا وطن اصلی نہیں ہے۔ اس لیے جب تم علی گڑھ پہنچو تو پوری نماز پڑھو۔ براہ کرم، کچھ ایسی احادیث کے حوالے دیں جس میں وطن اصلی کا تذکرہ ہو، نیز مذکورہ بالا بخاری کی حدیث کا جواب دیں۔

    سوال:

    میں علی گڑھ کا رہنے والا ہوں، لیکن کام کی خاطر میں ریاض میں رہ ہاہوں ۔ اگر علی گڑھ آؤں تو کیا میں قصر ادا کروں یا پوری نماز پڑھوں کیونکہ یہ میرا گھر ہے؟ میر ا خیال یہ ہے کہ قصر نماز ہوگی اس حدیث کی بناء پر جو بخاری ، جلددوم، حدیث نمبر187 /باب القصر ، یحی بن اسحاق سے مروی ہے کہ میں نے انس سے سنا کہ:? ہم لوگ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ سفر کرتے تھے اور دو رکعت اداکرتے تھے(ہر نماز میں) یہاں تک ہم مدینہ لوٹ آتے تھے? میں نے کہا: ? کیاآپ لوگ مدینہ میں رکتے تھے؟? انہوں نے جواب دیا: ? ہم لوگ مدینہ میں دس دن تک رکتے تھے?۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے تھے، لیکن کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد میں تذبذب میں پڑگیا، چونکہ انہوں نے کہا کہ ریاض تمہارا وطن اصلی نہیں ہے۔ اس لیے جب تم علی گڑھ پہنچو تو پوری نماز پڑھو۔ براہ کرم، کچھ ایسی احادیث کے حوالے دیں جس میں وطن اصلی کا تذکرہ ہو، نیز مذکورہ بالا بخاری کی حدیث کا جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2027201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 409=129tl-3/1431

     

    صورت مسئولہ میں آپ علی گڑھ جانے کے بعد اتمام کریں گے قصر نہیں کریں، آپ نے جو حدیث بحوالہ بخاری لکھی ہے اس میں خود ہی وطن اصلی کا ذکر ہے۔ صحابہٴ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کا سفر کرتے اور وہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرتے تو قصر کرتے لیکن مدینہ پہنچتے ہی اتمام شروع کردیتے تھے۔ یہ سب اس وجہ سے تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام نے مدینہ کو اپنا وطن بنالیا تھا، وطن اصلی کی تعریف کتابوں میں اس طرح مذکور ہے، الوطن الأصلي ہو موطن ولادتہ أو تأھلہ أو توطنہ (الدر المختار) نیز اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر وطن اصلی کو اس طرح چھوڑا جائے کہ اس سے تمام تعلقات منقطع ہوجائیں، وہاں نہ کچھ زمین ومکان ہو تو وہ وطن باقی نہیں رہتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہٴ کرام کا مکہ میں قصر کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہاں آپ کا کوئی گھر وغیرہ باقی نہیں تھا قال في عمدة الرعایة: یدل علیہ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابہ لما دخلوا مکة في غزوة الفتح وحجة الوداع قصروا فیہا مع أنہا کانت مولدہم ومسکنہم وما ذلک إلا لبطلان وطنیتہ باتخاذ المدینة وطنا بالہجرة (عمدة الرعایة: ۲۳۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند