• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 19175

    عنوان:

    جی میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر مسجد میں کسی وجہ سے ایک سے زیادہ بار جماعت بنانے کی ضرورت پڑے تو ایسی حالت میں کیا ہر باراقامت کرنی لازمی ہے یا اذان کی ہی طرح ایک ہی اقامت سے ساری جماعتیں ہوسکتی ہیں؟

    سوال:

    جی میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اگر مسجد میں کسی وجہ سے ایک سے زیادہ بار جماعت بنانے کی ضرورت پڑے تو ایسی حالت میں کیا ہر باراقامت کرنی لازمی ہے یا اذان کی ہی طرح ایک ہی اقامت سے ساری جماعتیں ہوسکتی ہیں؟

    جواب نمبر: 19175

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 178=171-2/1431

     

    مسجد محلہ کہ جس میں باقاعدہ امامت واذان کا نظام مقرر ہو اہل محلہ یا لگے بندھے تقریباً مقرر نمازی ہوں ایسی مسجد میں تو دوسری تیسری جماعت ہی مکروہ ہے، اور جو مسجد ایسی نہ ہو مثلاً سڑک یا جنگل وغیرہ کے کنارہ ہو اور اس میں مسافر لوگ نماز پڑھ کر چلے جاتے ہوں اس مسجد میں جماعتِ ثانیہ ثالثہ درست ہے اور دوسری تیسری جماعت مثل پہلی جماعت کے اذان واقامت کے ساتھ ادا کی جائے گی اور جو مسجد لبِ سڑک تو ہو مگر اس میں باقاعدہ امامت اذان وغیرہ کا اہتمام ہو تو وہ مسجدِ محلہ کے حکم میں ہے، مسجد محلہ میں اگر خارج مسجد کبھی کبھار جماعت ثانیہ ضرورةً کوئی کرلے اور اس جماعتِ ثانیہ کی وجہ سے تشویش نمازیوں کو نہ ہو تو گنجائش ہے اوراس میں اقامت کہہ لینا کافی ہے، اگرچہ اس میں مسجد کا ثواب نہ ملے گا تاہم اس کی عادت بنالینا سخت مکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند