• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1866

    عنوان:

    عشا کی نماز کے لیے بہترین وقت کیا ہے؟ تاخیر ہونے کی صورت میں کب تک عشا کی نماز کی پڑھی جا سکتی ہے؟ فجر سے پہلے اگر دوگھنٹے ہوں تو عشا کی نماز کی پڑھ سکتے ہیں ؟ اگر ہاں ! تو مکمل یا فرض اور وتر؟ (۲) اگر شوہر کا پہلے انزال ہوجاتاہے اور بیوی کے انزال میں وقت لگے تو کیا انگلی سے بیوی کے انزال ہونے میں مدد کی جاسکتی ہے؟ کیا اسلام میں اس کی کچھ گنجائش ہے؟

    سوال:

    عشا کی نماز کے لیے بہترین وقت کیا ہے؟ تاخیر ہونے کی صورت میں کب تک عشا کی نماز کی پڑھی جا سکتی ہے؟ فجر سے پہلے اگر دوگھنٹے ہوں تو عشا کی نماز کی پڑھ سکتے ہیں ؟ اگر ہاں ! تو مکمل یا فرض اور وتر؟

    (۲) اگر شوہر کا پہلے انزال ہوجاتاہے اور بیوی کے انزال میں وقت لگے تو کیا انگلی سے بیوی کے انزال ہونے میں مدد کی جاسکتی ہے؟ کیا اسلام میں اس کی کچھ گنجائش ہے؟

    جواب نمبر: 186601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 599/ م= 594/ م

     

    (۱) گرمی میں عشاء کی نماز میں تعجیل اولیٰ ہے یعنی عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعد اول وقت میں عشاء کی نماز ادا کرلی جائے اور سردی میں تاخیر افضل ہے یعنی وقت شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ادا کی جائے، اور عشاء کی جماعت اتنی تاخیر سے کرنا مکروہ ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت فوت ہونے یا تقلیل جماعت کا اندیشہ ہو، درمختار میں ہے: وتاخیر عشاء إلی ثلث اللیل قیدہ في الخانیة وغیرھا بالشتاء، أما الصیف فیندب تعجیلھا اور تاخیر ہونے کی صورت میں عشاء کی نماز فجر سے پہلے تک پڑھی جاسکتی ہے، یعنی عشاء کی ادا نماز کا وقت مغرب کا وقت ختم ہونے سے لے کر فجر کا وقت شروع ہونے تک ممتد رہتا ہے، کما في الدر المختار: و وقت العشاء والوتر منہ إلی الصبح، وفي رد المحتار: قولہ منہ أي من غروب الشفق علی الخلاف فیہ لہٰذا اگر فجر سے پہلے دو گھنٹے ہوں تو بلاشبہ عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں اور مکمل نماز پڑھیں۔

    (۲) انگلی آلہٴ جماع نہیں ہے، اس لیے انزال میں انگلی سے مدد لینا غیر مناسب اورمکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند