• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1808

    عنوان: لوگوں کا کہنا ہے کہ اجتماعی دعا اور ہاتھ اٹھانابالکل جائز نہیں ہے ، اور یہ بدعت ہے ، فاتحہ خوانی میں ہاتھ نہیں اٹھاناچاہئے ۔ فرض نماز کے بعد کی کیاحکم ہے؟ سنت یا مستحب؟ قرآن اور احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    سوال: لوگوں کا کہنا ہے کہ اجتماعی دعا اور ہاتھ اٹھانابالکل جائز نہیں ہے ، اور یہ بدعت ہے ، فاتحہ خوانی میں ہاتھ نہیں اٹھاناچاہئے ۔ فرض نماز کے بعد کی کیاحکم ہے؟ سنت یا مستحب؟ قرآن اور احادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 1808

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 631/ د= 619/ د

     

    (۱) احادیث سے فرض نمازوں کے بعد بھی دعا کرنا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا دونوں ثابت ہیں۔ بطور نمونہ دو رواتیں لکھی جارہی ہیں، پہلی روایت کو ابن السنی نے عمل الیوم اللیلة میں نقل کیا ہے اوردوسری روایت کو مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت کیا گیا ہے۔ پہلی روایت میں ہے : ما من عبد یبسط کفیہ في دبر کل صلوة ویقول ۔۔۔ إلا کان حقا علی اللہ أن لا یرد یدیہ خائبتین دوسری روایت میں ہے: عن الأسود العامري عن أبیہ قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الفجر فلما سلم انحرف ورفع یدیہ ودعا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے امداد الفتاوی: ج۱)

    (۲) فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا اور ہاتھ اٹھانا مستحب ہے جب نماز کے بعد بہت سے لوگ (یعنی سارے نماز) دعا کریں گے تو اجتماعی ہیئت خود بخود پیدا ہوجائے گی، اس کو بدعت کہنا درست نہیں ہے، سنت اور احادیث کا انکار ہے۔

    (۳) فاتحہ خوانی اگر قبرستان میں اور قبر کی طرف رخ کرکے کررہے ہیں تو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند