• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 179773

    عنوان:

    وتر کی نیت کیسے کی جائے ؟

    سوال:

    محترم علماء کرام ۔ سوال یہ ہے کہ وتر کی نیت کیا ہو گی؟ برائے مہربانی الفاظ بتا دیں۔ وتر کیوں رکھے گئے ہیں؟ اِن کا مقصد کیا ہے ؟ اگر ایک وتر کا حکم ہے کہ تعداد کو طاق کیا جا سکے تو پھر ہم ۳رکعت وتر کی نیت کیوں کرتے ہیں؟ ایسا کیوں نہیں کہتے کہ نیت کرتا ہوں دو رکعت نفل بمعہ ایک وتر کے ؟ احناف اور غیر مقلدین کے وتروں میں کیا فرق ہے ؟ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

    جواب نمبر: 179773

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 23-5T/M=01/1442

     نیت در اصل دل کے ارادے کا نام ہے زبان سے نیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں، اگر کوئی زبان سے نیت کرنا چاہے تو یوں کہہ سکتا ہے کہ ”نیت کرتا ہوں میں نماز وتر کی“ نماز وتر کیوں اور کس مقصد سے مشروع ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے ہمیں اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں، ہمیں اس کی ادائیگی کا حکم ہے اس لیے ہم کو صرف یہ جاننا چاہئے کہ وتر کی شرعی حیثیت کیا ہے اور وہ کتنی رکعت ہے اور اس کی ادائیگی کاطریقہ کیا ہے؟ تو معلوم ہونا چاہئے کہ وتر کے متعلق روایات میں وارد الفاظ تاکید کی بنا پر حنفیہ کے نزدیک اس کی حیثیت وجوب کی ہے اور یہ نماز میں تین رکعت ہے جو ایک سلام کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔

    وتر، طاق عدد کو کہا جاتا ہے اس معنی کے اعتبار سے مغرب کی نماز کو بھی وتر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فقہاء کے نزدیک وتر سے مراد وہ مخصوص نماز ہے جو عشاء کی نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ وتر تین رکعت ہے یا ایک؟ اس میں اختلاف ہے۔ احناف کے یہاں وتر تین رکعت پڑھنا واجب ہے ۔ احادیث سے اِسی موقف کی تائید ہوتی ہے، اور ایک رکعت وتر والی روایات قابل توجیہہ و تاویل ہیں اس لیے تین رکعت وِتر اَرجح ہے۔ دلائل کتب حدیث و فقہ میں مذکور ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند