• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 177873

    عنوان: سورج نكلنے كے بعد نماز پڑھنا؟

    سوال: اگر کوئی شخص سورج نکلنے کے دو منٹ کے بعد فجر کی نماز پڑھ رہا ہو جب کہ اس کو وقت کا پتا نہ ہو تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 17787301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:805-638/L=9/1441

    طلوعِ شمس شروع ہونے سے لے کرکامل طور پر طلوع ہونے تک نماز پڑھنا ممنوع ہے ، اگر کوئی اس وقت فجر کی فرض نماز پڑھے تو اس کی نماز درست نہ ہوگی بلکہ دوبارہ ادا کرنا ضروری گا ۔

    فی رد المحتار :اعلم أن الأوقات المکروہة نوعان:الأول الشروق والاستواء والغروب.والثانی ما بین الفجر والشمس، وما بین صلاة العصر إلی الاصفرار، فالنوع الأول لا ینعقد فیہ شیء من الصلوات التی ذکرناہا إذا شرع بہا فیہ، وتبطل إن طرأ علیہا إلا صلاة جنازة حضرت فیہا وسجدة تلیت آیتہا فیہا وعصر یومہ والنفل والنذر المقید بہا وقضاء ما شرع بہ فیہا ثم أفسدہ، فتنعقد ہذہ الستة بلا کراہة أصلا فی الأولی منہا، ومع الکراہة التنزیہیة فی الثانیة والتحریمیة فی الثالثة، وکذا فی البواقی، لکن مع وجوب القطع والقضاء فی وقت غیر مکروہ․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین رد المحتار 1/ 373)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند