• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 174095

    عنوان: اگر اہل بدعت کی مسجد، گھر سے قریب ہو اور اہل حق کی کچھ دور تو کس میں نماز پڑھی جائے؟

    سوال: مولانا مفتیان کرام امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ مولانا میرے گھر کے دروازے کے دائیں اور بائیں جانب دونوں جانب تقریبا سو میٹر کے فاصلے پر دو مسجدیں ہیں دائیں ہاتھ کی جانب بریلوی حضرات کی مسجد ہے اور بائیں ہاتھ کی جانب تبلیغی جماعت کی مسجد ہے جہاں پر میں ہمیشہ نماز ادا کرنے جاتا ہوں فاصلے کے حساب سے کچھ قریب بریلوی مسجد ہے۔ میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ میرے لیے محلے کی مسجد کونسی ہے؟ برائے مہربانی جلد جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 174095

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:136-117/N=3/1441

    آپ حسب سابق، اہل حق حضرات ہی کی مسجد میں نماز کے لیے جاتے رہیں، بریلویوں کی مسجدمیں آپ ہرگز نہ جائیں اگرچہ وہ کچھ قریب ہو یا آپ کے گھر سے دائیں جانب ہو؛ کیوں کہ بریلوی (اہل بدعت) کی اقتدا میں نماز مکروہ ہوتی ہے بہ شرطیکہ اس کی اعتقادی یا عملی بدعت کفر تک نہ پہنچی ہوئی ہو۔ اور اگر کسی بدعتی کی بدعت کفر تک پہنچی ہوئی ہو تو وہ مسلمان ہی نہیں، اس کی اقتدا میں نماز سرے سے درست ہی نہ ہوگی۔

     ویکرہ… إمامة …مبتدع، أي:صاحب بدعة،وہي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة؛ بل بنوع شہبة……لا یکفر بہا …، وإن أنکر بعض ما علم من الدین ضرورة کفر بہا…فلا یصح الاقتداء بہ أصلا (الدر المختار مع الرد،کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲:۲۹۸-۳۰۱، ط مکتبة زکریا دیوبند)، فھو- أي:الفاسق- کالمبتدع تکرہ إمامتہ بکل حال بل مشی في شرح المنیة علی أن روایة کراھة تقدیمہ کراھة تحریم لما ذکرنا (رد المحتار، ۲: ۲۹۹) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند