• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 172262

    عنوان: امامت سے متعلق چند سوالات

    سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ایک مسجد میں تین سال سے امامت کررہا ہے۔ اس دوران زید کی بہت ساری ایسی شرعی غلطیاں ہیں جن کی وجہ سے مصلیان مسجد زید سے نالاں ہیں، لیکن مسجد کے ٹرسٹی (ذمہ داران) حضرات ان مصلیان کی توجہ کو سنتے نہیں ہیں، اور نہ زید کے خلاف کسی قسم کی کوئی تادیبی کاروائی کرتے ہیں۔ صورتِ حال یہ بن گئی ہے کہ مصلیانِ مسجد دھیرے دھیرے اِسی وجہ سے قریب کی دوسری مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے جانے لگے ہیں۔ (۱) زید فرض نماز سے پہلے کی اور فرض نماز کے بعد کی سنت ونوافل نمازوں کا پابند نہیں ہے، تحقیق کرنے پر پتہ چلا ہے کہ زید گھر پر بھی سنت ونوافل ادا نہیں کرتا، صرف فرض نماز امامت کرکے مسجد سے رخصت ہوجاتا ہے۔ (۲) بیرون شہر سے ایک مصلی مسجد کے بینک کھاتے میں پیسہ منگوا کر اپنے ذاتی استعمال میں لیتا ہے۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ پیسہ سود کی رقم کا ہے۔ جب یہاں کے مقامی علماء ومفتیان سے اس کا ذکر تفصیلاً کیا گیا تو ان علماء نے اس عمل کو حرام قرار دیا۔ جبکہ زید کا کہنا ہے کہ سود کی رقم اگر تین یا چار لوگوں کے پیسے سے تبدیل کر لو تو یہ رقم استعمال کرنا جائز ہوجاتا ہے۔ (۳) مصلیان اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ زید امامت میں سجدے سے اُٹھتے ہوئے دونوں پیر زمین سے اُٹھا دیتا ہے۔ ایسی حالت میں امام کی نماز اور مصلیوں کی نماز دونوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ () امامت کے دوران رکوع میں جانے سے پہلے زید تکبیر کہہ دیتا ہے، اور صورت یہ بنتی ہے کہ مصلیان پہلے رکوع میں جاتے ہیں اور زید بحیثیت امام رکوع میں مصلیان کے بعد جاتا ہے۔ ایسی صورت میں مصلیوں کی نماز اور زید کی امامت کا کیا حکم ہوگا؟ (۴) ایسے لوگ جن کے بارے میں تحقیقاً ثابت ہے کہ اُن کی آمدنی حلال نہیں ہے، زید اُن کے گھر بے تکلف کھانا پینا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں زید کی امامت کا کیا حکم ہے؟ (۵) جہری نمازوں کی قرأت میں سانس لینے کے لئے قرأت میں وقفہ نہیں لیتا، جس کی وجہ سے قرأت کے تمام الفاظ مصلیوں کے کانوں تک برابر نہیں پہنچتے۔ بلکہ بعض مرتبہ ایسی سورتوں کے الفاظ جنہیں عام مسلمان حفظ رکھتا ہے (تیسویں پارہ کی آخری سورتیں) کی قرأت میں محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ چھوٹ گئے ہیں حالانکہ وہ سانس لینے کے دوران زید سے ادا ہوتے ہیں لیکن سانس لینے کی وجہ سے ان الفاظ کی آواز مصلیوں تک نہیں پہنچتی؟ ایسی نمازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۶) زید امامت کے ساتھ تراویح کی بھی امامت کرتا ہے، اور سہو ہونے پر مصلیوں کی جانب سے دئیے جانے والے لقموں پر توجہ نہیں دیتا۔ اور لقمہ دینے سے منع بھی کرتا ہے۔ حالانکہ لقمہ بے موقع یا بلاوجہ نہیں دیا جاتا۔ (۷) رمضان المبارک میں تراویح کی امامت کے لئے زائد ایک ماہ کی تنخواہ ذمہ داران مسجد سے مانگ کر لیتا ہے۔ زید کا تراویح کی امامت کی بابت زائد تنخواہ کی مانگ کرنا یہ عمل کیسا ہے؟ اور مسجد کے ذمہ داران کا اُسے تراویح کی امامت کے نام پر زائد رقم دینا کیسا ہے؟ مندرجہ بالا بیان کی گئی باتوں کے باوجود زید ابھی تک اسی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے، بتائی گئی صورت میں ایسے امام کی اقتداء میں نماز درست ہوگی یا نہیں، اگر درست نہ ہوتو اس مسئلہ کا شرعی حل کیا ممکن ہوسکتا ہے؟ اور اس گناہ کا وبال امام کے علاوہ ٹرسٹیان کے ذمہ (جو کہ امامت سے ہٹائے جانے پر قادر ہیں) ہوگا یا نہیں؟ نیز موجودہ صورت حال میں مسجد کے ذمہ داران (ٹرسٹیان) کی شرعی ذمہ داری کیا ہوگی؟ وضاحت سے جواب مرحمت فرمائیں۔ فقط : عتیق احمد Mob. 8087496518 و عبداللطیف، ساکنان مومن پورہ، مالیگاوٴں

    جواب نمبر: 172262

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1099-984/M=11/1440

    سوال میں امام کے متعلق جو تفصیلات مذکور ہیں اگر وہ سچ اور مطابق واقعہ ہیں اور مذکورہ شکایات ثابت ہیں تو امام پر ان خرابیوں کی اصلاح لازم ہے، امام کو چاہئے کہ فرائض سے پہلے اور بعد کی سنن کا اہتمام کرے، سودی رقم کا استعمال نہ کرے۔ ناجائز آمدنی والے کے یہاں کھانا پینا نہ کرے، سجدے میں دونوں پیر زمین پر کھے، تکبیرات انتقالیہ ایک رکن سے دوسرے رکن میں جب جانا شروع کرے تب کہے اور پہونچ کر ختم کردے، قرأت صحیح صحیح تجوید کے ساتھ پڑھے، سننے والوں کو ایسا محسوس نہ ہو کہ الفاظ چھوٹ گئے ہیں، نماز و تراویح میں صحیح لقمہ پر توجہ دے، اور محض تراویح کی اجرت کا الگ سے مطالبہ نہ کرے، اگر امام مذکور ان خرابیوں کی اصلاح کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ کسی دوسرے لائق امام کا انتخاب کیا جائے، ٹرسٹیان کی ذمہ داری ہے کہ امام کو ان کی مذکورہ خرابیوں پر حکمت کے ساتھ متنبہ کردیں اور اصلاح کی طرف توجہ دلائیں، اگر اس کے باوجود امام اپنی سابقہ خرابیوں پر برقرار رہتا ہے تو حسن انداز سے امام کو معزول کرکے کسی لائق امام کو بحال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند