• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 17001

    عنوان:

    میری تاریخ پیدائش 16.03.1980ہے۔ چودہ سال کی عمر میں بالغ ہوئی، نماز کی کبھی کوئی ترتیب نہیں بناسکی، اب بہت پریشان ہوں۔ برائے کرم مجھے قضائے عمری کا طریقہ بتادیجئے؟ میری دو بیٹیاں ہیں، دو بارپندرہ بیس دن کا نفاس تھا، ہر ماہ حیض صرف چار پانچ دن ہوتا ہے۔ برائے کرم شمار کرکے بتادیں کہ کتنی اور کس طرح نماز ادا کروں؟

    سوال:

    میری تاریخ پیدائش 16.03.1980ہے۔ چودہ سال کی عمر میں بالغ ہوئی، نماز کی کبھی کوئی ترتیب نہیں بناسکی، اب بہت پریشان ہوں۔ برائے کرم مجھے قضائے عمری کا طریقہ بتادیجئے؟ میری دو بیٹیاں ہیں، دو بارپندرہ بیس دن کا نفاس تھا، ہر ماہ حیض صرف چار پانچ دن ہوتا ہے۔ برائے کرم شمار کرکے بتادیں کہ کتنی اور کس طرح نماز ادا کروں؟

    جواب نمبر: 17001

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ):2083=1677-11/1430

     

    اول تو نفاس او رحیض کے کل دنوں کو اچھی طرح غور کرکے متعین کرلیں، اگر بہت غور وخوض کے بعد بھی تردد رہے تو کم مقدار دنوں کی نفاس وحیض محسوب کرلیں، مثلاً اگر یہ ذہن میں آئے کہ کل مجموعہ حیض ونفاس کے دنوں کا ایک سو بیس یا ایک سو پندرہ یا ایک سو دس ہے تو ایک سو دس قرار دے لیں، اس کے بعد اچھی طرح تحری کریں کہ بالغ ہونے کے بعد سے اب تک کتنی نمازیں چھوٹی ہیں اس کا بھی مجموعہ مقرر کرلیں اور مختلف مقدار ذہن میں آئے تو زیادہ والا عدد مقرر رکھیں اور پھر اس میں حیض ونفاس والی مقدار گھٹادیں، اب جتنے دن بچیں، اتنے دنوں کی نمازیں اپنے ذمہ سمجھ لیں اور ان کو اداء کرنا شروع کردیں، مثلاً فجر میں یہ نیت کرلیا کریں کہ یا اللہ میرے ذمہ اب جو پہلی نماز فجر چھوٹی ہوئی نمازوں میں سے ہے اس کو اداء کرتی ہوں، اسی طرح دوسری نمازوں میں یہی نیت کرلیا کریں، جب قضاء شدہ نمازوں کی مقدار پوری ہوجائے تو چھوڑدیں اور جب تک مقدار پوری نہ ہو ہرنماز میں مذکورہ بالا طریقہ سے نیت کرکے اداء کرتی رہیں۔ قضاء نمازوں کی ادائیگی میں یہ لازم نہیں کہ فجر کی فجر میں ہی اداء کی جائے، بلکہ اوقاتِ مکروہ کو چھوڑکر جب جتنی اور جونسی نماز قضاء نمازوں میں سے پڑھنا چاہیں، پڑھ سکتی ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند