• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 169093

    عنوان: كیا کرایہ كے مکان میں جانے سے مقیم ہو جائے گا

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک طالب العلم مدرسہ میں پڑھتاہے ، اور ان کے ماں ، باپ اپنے وطن اصلی چھوڑ کر شہر میں کرایہ کے مکان پر رہتے ہیں، کیا یہ طالب العلم اس مقام میں جاکر 15 دن سے کم اگر رہنے کی نیت کرے تو کیا وہ مقیم بن جائے گا یا مسافر رہے گا؟ جزاکم اللہ

    جواب نمبر: 16909301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:730-642/L=7/1440

    جائے ملازمت وطنِ اصلی کے حکم میں اسی وقت میں ہے جبکہ اس جگہ ہمیشہ رہنے کے لیے نیت کرلی جائے ورنہ وہ جگہ وطنِ اصلی کے حکم میں نہ ہوگی، صورتِ مسئولہ میں اگر اس طالب علم کے والدین عارضی طور پر وہاں رہ رہے ہیں تو جب وہ جگہ خود والدین کے حق میں وطنِ اصلی کے حکم میں نہیں ہے تواس طالب علم کے حق میں بدرجہ اولی وطن اصلی کے حکم میں نہ ہوگی ،اور اگر والدین نے اس جگہ کو وطنِ اصلی بنالیا ہے اور وہ طالب علم بالغ ہے تو چونکہ بالغ لڑکا والد کے تابع نہیں ہوتا ؛اس لیے جب تک وہ طالب علم خود اس کو وطنِ اصلی نہ بنائے یعنی وہاں قرار کے طور پر رہنے کی نیت نہ کرلے وہ مقیم نہ ہوگا اور پندرہ دن سے کم رہنے کی صورت میں قصر نماز ادا کرے گا۔

    (قولہ أو توطنہ) أی عزم علی القرار فیہ وعدم الارتحال وإن لم یتأہل، فلو کان لہ أبوان ببلد غیر مولدہ وہو بالغ ولم یتأہل بہ فلیس ذلک وطنا لہ إلا إذا عزم علی القرار فیہ وترک الوطن الذی کان لہ قبلہ شرح المنیة.(رد المحتار: 2/ 614،ط:زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند