• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 169047

    عنوان: کیا فجر کی سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں؟

    سوال: کیا فجر کی سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں؟ہمارے امام کہتے ہیں کہ مسجد میں دو سنتوں کے ساتھ تحیة المسجد کی نیت بھی کرلیں تو زیادہ ثواب حاصل ہوگا بنسبت گھر کے، مہربانی سے رہنمائی فرمائیں حوالے کے ساتھ۔ اور کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول خاص فجر کی سنتوں کے لیے؟

    جواب نمبر: 169047

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 591-88T/D=06/1440

    فجر کی سنتیں اور دیگر تمام سنن و نوافل گھر میں پڑھنا افضل اور بہتر ہے بمقابلہ مسجد کے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے صلاة الرجل في المنزل أفضل إلا المکتوبة إلخ ”آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے علاوہ فرض نماز کے“ لیکن اگر کوئی گھر سے سنت پڑھے بغیر مسجد آجائے اور جماعت کھڑی ہونے میں وقت ہو تو مسجد ہی میں سنتیں پڑھ لینی چاہئے ہاں اگر نماز کھڑی ہوچکی اور سنت پڑھنے کے بعد جماعت ملنے کا ظن غالب ہو تو ایسی صورت میں مسجد سے الگ حجرہ وغیرہ میں سنت پڑھ کر جماعت میں شریک ہونا چاہئے ورنہ اس کو چاہئے کہ پہلے جماعت میں شریک ہو جائے پھر آفتاب کے ذرا بلند ہونے کے بعد زوال سے پہلے پہلے سنت پڑھ لے۔

    (ب) اور امام صاحب جو تحیة المسجد کا ثواب ملنے کی بات کہہ رہے ہیں تو اس کا ثواب جس طرح سنتوں کے ضمن میں مل سکتا ہے اسی طرح فرض نماز میں بھی ملے گا اگر تحیة المسجد کی نیت کرلی جائے جیسا کہ شامی میں موجود ہے ۔

    (ج) سنت فجر کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا کہ آپ ان کو گھر میں پڑھا کرتے تھے۔ الأفضل في السنن والنوافل المنزل لقولہ علیہ الصلاة والسلام ”صلاة الرجل فی المنزل أفضل إلا المکتوبة“ ثم باب المسجد إن کان الإمام یصلي فی المسجد ․․․․․․․ أما قبل الشروع فیأتي بہا فی المسجد في أي موضع شاء ۔ ہندیة: ۱/۱۷۲، ط: اتحاد دیوبند ۔

    عن عائشة قالت: کان رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم- إذا سکت الموٴذن من صلاة الفجر وتبین لہ الفجر قام فرکع رکعتین خفیفتین ثم اضطجع علی شقہ الأیمن حتی یأتیہ الموٴذن للإقامة فیخرج متفق علیہ۔ شامی: ۲/۴۶۲، ط: زکریا بکڈپو ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند