• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 168877

    عنوان: نماز اور روزے كا فدیہ كیا ہے؟

    سوال: کسی کے باپ کا انتقال ہوا، اور حالت مرض میں تقریباً ایک سال کی نماز قضا ہو گئی ، اسی طرح ایک مہینہ رمضان کے روزے بھی چھوٹ گئے ، تو اب میرا سوال یہ ہے کہ ۱.ان کے نماز روزے کا فدیہ دینا ضروری ہے ؟ کیونکہ فدیہ کی وصیت نہیں کیا، حالانکہ ان کے ترکہ میں سے ۰۸ لاکھ روپے کی جائداد تھی۔ ۲. لڑکے کہتے ہیں کہ چونکہ وصیت نہیں کی ہے اس لیے فدیہ ادا نہیں کریں گے ۔ ۳. لڑکے اور دوسرے وارثین میت کیلئے کھانا کھلائیں گے ،(کسی کی موت پر دعوت کھلانا ہمارے ملک کا رواج ہے ) جس میں ایک لاکھ روپئے سے زائد خرچ ہوگا تو کیا یہ کھانے کا انتظام کرنا ضروری ہے ؟ یا فدیہ دینا؟براہ کرم، جواب دیں۔ جزاکم اللہ

    جواب نمبر: 168877

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 554-83T/D=06/1440

    (۱) (الف) تیس روزے کے فدیے تیس صدقہ فطر کے بقدر غلہ یا رقم ہوئی۔

    (ب) روزانہ (وتر شامل کرکے) چھ نمازوں کے حساب سے سال بھر کی نمازوں کی تعداد جوڑ لیں پھر ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ فطر کے بقدر رقم یا غلہ ہوتا ہے سب کا حساب نکال لیں۔

    (ج) اگر مرحوم نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہوتی تو ترکہ کے ایک تہائی مال میں سے فدیہ ادا کرنا وارثین کے ذمہ لازم ہوتا لیکن جب مرحوم نے وصیت نہیں کی تو اب وارثین کے ذمہ فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

    (د) البتہ جو وارث اپنی خوشی سے اپنے حصہ میں سے کل یا بعض فدیہ کی رقم ادا کردے تو بہت اچھا ہے سب مل کر ادا کردیں یا بعض ورثاء ادا کردیں دونوں شکل جائز ہے لیکن کسی وارث پر زور اور دباوٴ نہیں ڈالا جاسکتا ۔

    (۲) لڑکوں پر اگرچہ فدیہ ادا کرنا لازم اور واجب نہیں ہے لیکن والد کے حقوق و احسانات کے مقابلہ میں اس طرح کی بات کہنا بے مروتی اور حق ناشناسی ہے۔

    (۳) کسی کے انتقال کے بعد کھانا کھلانے کی رقم خلاف شرع ہے اور بدعت قبیحہ میں سے ہے اگر کسی وارث کو زبردستی شامل کیا گیا یا اس کے حصے کی رقم زبردستی لگائی گئی تو یہ عمل مزید ناجائز ہے اور اگر کوئی وارث نابالغ ہوا تو مشترک پیسے سے دعوت کا انتظام کرنا حرام ہے۔ حاصل یہ کہ اس طرح کی دعوت بہرصورت واجب الترک ہے لہٰذا فدیہ دیدینا زیادہ بہتر ہوا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند