• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 168841

    عنوان: فرض یا نفل کی ایک رکعت میں متعدد سورتیں پڑھنا

    سوال: مولانا مفتیان اکرام، میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ کیاسنت و نفل نمازوں میں اور فرض نماز اگر تنہا پڑھ رہے ہوں تو ایک ساتھ دو تین سورتیں ایک رکعتیں پڑھ سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر مجھے بڑی صورتیں یاد نہیں اور اگر فجر میں منفرد پڑھ رہا ہوں یا کوئی اور فرض ناز تب کیا فرض نماز میں ایک ساتھ دو تین سورتیں پہلی رکعت میں اور دو تین سورے دوسری رکعت میں پڑھ سکتا ہوں کیا؟ مہربانی فرما کر جلد سے جلد مطمئن فرمائیں، ساتھ ہی اپنے جلد ٹرانسفر اور قرضوں سے نجات کے لئے آپ سبھی حضرات سے خصوصی خصوصی دعاوں کی درخواست کرتا ہوں۔ نیز اپنی والدہ محترمہ کی مغفرت کے لئے دعا کے لئے درخواست ہے ۔

    جواب نمبر: 168841

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:571-543/sn=7/1440

    سنن غیر مؤکدہ اور نوافل میں تو کوئی حر ج نہیں، گنجائش ہے؛ البتہ فرائض میں اچھا نہیں ہے، خواہ فرض نماز انفرادا پڑھی جائے یا باجماعت،؛ہاں نماز دونوں صورتوں میں ہو جائے گی۔

    و) قرأ بعدہا وجوبا (سورة أو ثلاث آیات)... (قولہ سورة) أشار إلی أن الأفضل قراء ة سورة واحدة؛ ففی جامع الفتاوی: روی الحسن عن أبی حنیفة أنہ قال: لا أحب أن یقرأ سورتین بعد الفاتحة فی المکتوبات، ولو فعل لا یکرہ، وفی النوافل لا بأس بہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/194،ط: زکریا) ویکرہ الانتقال لآیة من سورتہا ولو فصل بآیات والجمع بین سورتین بینہما سور أو سورة وفی الخلاصة لا یکرہ ہذا فی النفل.... قولہ: "والجمع بین سورتین الخ" أی فی رکعة واحدة لما فیہ من شبہة التفضیل والہجر قولہ: "لا یکرہ ہذا فی النفل" یعنی القراء ة منکوسا والفصل والجمع کما ہو مفاد عبارة الخلاصة حیث قال بعد ما ذکر المسائل الثلاث وہذا کلہ فی الفرائض أما فی النوافل لا یکرہ اہ (حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح مع حاشیتہ للطحطاوی،ص: 353،ط: دارالکتاب)

    (2) اللہ تعالی آپ کی جملہ جائز تمنائیں پوری فرمائے ۔ (آمین)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند