• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 168684

    عنوان: ظہر میں پہلے اور بعد میں کل سنت موٴکدہ کتنی ہیں؟

    سوال: جو بھی ظہر کی فرض نماز سے پہلے اور اس کے بعد چار رکعت سنت پڑھے گا تو اللہ اس کو جہنم کی سے محفوظ رکھے گا (احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)، اس مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ ہمیں ظہر میں کل کتنی سنتیں پڑھنی چاہئے؟ چار رکعت سنت، چار رکعت فرض اور چار کعت سنت، یا چار رکعت سنت، چار رکعت فرض ، دو رکعت سنت اور پھر چار رکعت سنت؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 168684

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:535-445/N=6/1440

    ظہر میں سنت موٴکدہ صرف ۶/ ہیں، ۴/ فرض سے پہلے اور ۲/ فرض کے بعد۔ اور سوال میں جو حدیث نقل کی گئی ہے، اس میں ترغیب ہے، تاکید نہیں؛ البتہ فرض سے پہلے کی ۴اور بعد کی ۲/ کا موٴکدہ ہونا دوسری دلیل سے ثابت ہے؛ اس لیے فرض کے بعد ۲/ سنتوں کے علاوہ ۴/ یا ۲/ رکعتیں صرف مستحب ہیں، سنت موٴکدہ نہیں۔

    أربع قبل الظھر و رکعتین بعدھا، … ویستحب أن یصلي بعد الظھر أربعاً (المختار مع الاختیار، کتاب الصلاة، باب النوافل، ۱: ۲۲۵، ۲۲۶، ط: موٴسسة الرسالة، بیروت)، (أربع قبل الظھر و رکعتین بعدھا……) فھذہ موٴکدات لا ینبغي ترکھا……(ویستحب أن یصلي بعد الظھر أربعا) قالت أم حبیبة: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من حافظ علی أربع رکعات قبل الظھر وأربع بعدھا حرمہ اللہ علی النار (الاختیار)۔

    وسن موٴکداً أربع قبل الظھر ……ورکعتان …بعد الظھر، ……ویستحب أربع قبل العصر وقبل العشاء وبعدھا بتسلیمة وإن شاء رکعتین وکذا بعد الظھر لحدیث الترمذي من حافظ علی أربع قبل الظھر وأربع بعدھا حرمہ اللہ علی النار (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲: ۴۵۱، ۴۵۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    قولہ: ”عن علي الخ“: دلالتہ علی تاکید الأربع قبل الظھر والرکعتین بعدھا ظاھرة۔ قولہ: ”عن أم حبیبة الخ“: قال الموٴلف: فیہ ترغیب، وھو لا یدل علی التأکید، وإنما یدل علی الاستحباب إلا إذا قترن بقرینة دالة علی التأکید، وقد ثبت کون الأربع قبل الظھر والرکعتین بعدھا سنة موٴکدة فبقي الرکعتان علی الاستحباب (إعلاء السنن، کتاب الصلاة، باب النوافل والسنن، ۷: ۳، ۴، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراتشي)۔

    قلت: وقد أخرج الترمذي من طریق الثوري عن أبي إسحاق عن المسیب بن رافع عن عنبسة بن أبي سفیان عن أم حبیبة، وفیہ: ” من صلی في یوم ولیلة ثنتي عشرة رکعة بني لہ بیت في الجنة: أربعاً قبل الظھر ورکعتین بعدھا“ الحدیث، وھذا ھو الموافق لما روت عائشةفي ھذا الباب، فالظاھر أن الرکعتین في الأربع بعد الظھر موٴکدتان والرکعتین غیر موٴکدتین (بذل المجھود، کتاب الصلاة، باب الأربع قبل الظھروبعدھا، ۵: ۴۸۶، ط: دار البشائر الإسلامیة بیروت)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند