• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 167538

    عنوان: كیا سنتوں كی بھی قضا پڑھنی ہوگی؟

    سوال: اگر کوئی نماز قضا ہوجائے تو کیا اس نماز کی فرض نماز کے علاوہ سنت کی بھی قضا پڑھنی ہوگی؟ مثال کے طورپر اگر ظہر کی نماز قضا ہوگئی ہو تو کیا ہم نیت اس طرح کریں: (۱) ظہر کی چار رکعت سنت نماز کی قضا ادا کرتاہوں، (۲) ظہر کی چار رکعت فرض نماز کی قضا اداکرتاہوں،(۳) ظہر کی دو رکعت سنت نماز کی قضا ادا کرتاہوں، (۴)ظہر کی دو رکعت نفل نماز کی قضا ادا کرتاہوں۔

    جواب نمبر: 167538

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:450-417/sn=6/1440

    اگر کسی کی نماز فجر فوت ہوجائے اور وہ زوال سے پہلے اس کی قضا کرے تو اسے فجر کی فرض کے ساتھ ساتھ دو سنتوں کی بھی قضا کرنی چاہئے ، سنت فجر کے علاوہ دیگر سنتوں کی قضا ضروری نہیں ہے ، صرف فرض کی قضا کافی ہے ؛ لہذا اگر کسی کی (مثلا)نمازِ ظہر فوت ہوگئی تو اس پر صرف چار رکعت فرض کی قضا واجب ہے ، اس سے پہلے یا بعد کی سنتوں کی قضا ضروری نہیں ہے؛ البتہ عشا کی نماز فوت ہوجانے کی صورت میں فرض کے ساتھ ساتھ وتر کی بھی قضا ضروری ہے۔ اگر اتفاقا کوئی نماز چھوٹ جائے تو اس کی قضا کے وقت یہ نیت کریں گے کہ فلاں دن میری جو (مثلا)ظہر کی نماز چھوٹی ہے اس کی قضا پڑھ رہا ہوں۔

    ...وقد قالوا إنما تقضی الصلوات الخمس والوتر علی قول أبی حنیفة وصلاة العید إذا فاتت مع الناس علی تفصیل یأتی فی بابہا وسنة الفجر تبعا للفرض قبل الزوال والقضاء فرض فی الفرض واجب فی الواجب سنة فی السنة(البحر الرائق2/ 141،ط: زکریا) والقضاء فرض فی الفرض وواجب فی الواجب سنة فی السنة. (الفتاوی الہندیة1/121،ط:زکریا).وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب (الدرالمختارمع رد المحتار2/524،زکریا)

    (وإذا خاف فوت) رکعتی (الفجر لاشتغالہ بسنتہا ترکہا) لکون الجماعة أکمل...(ولا یقضیہا إلا بطریق التبعیة ل) قضاء (فرضہا قبل الزوال لا بعدہ فی الأصح) لورود الخبر بقضائہا فی الوقت المہمل، بخلاف القیاس فغیرہ علیہ لایقاس إلخ (الدرالمختارمع رد المحتار2/510،ط:زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند