• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 167532

    عنوان: جائے ملازمت میں قصر واتمام نیز اگر کوئی مسافر اتمام کرلے تو کیا حکم ہے ؟

    سوال: میں روزانہ نوکری کے لیے گھر کے شہر سے دوسرے شہر میں جاتاہوں، جس کا فاصلہ 110کلو میٹر ہے اور پھر گھر واپس آتا ہوں ، روزانہ 220کلو میٹر کا سفر ہوتاہے، کیا مجھے روزانہ پوری نماز کی رکعت پڑھنی چاہئے یا پھر قصر کی دو رکعت نماز پڑھنی چاہئے؟ میں دو سال سے یہ سفر کررہاہوں، میں نے پوری نماز پڑھی ہے، قصر نہیں پڑھی ہے۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 167532

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:448-61T/L=6/1440

    گھر میں تو آپ پوری نماز ہی پڑھیں گے؛ البتہ جائے ملازمت اور راستہ میں قصر پڑھنا ضروری ہے بہ شرطے کہ آپ کے شہر کی آبادی کی انتہاسے دوسرے شہر( جہاں آپ کام کرتے ہیں) کی ابتدا تک سوا ستہتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی مسافت ہو۔

    (۲) دو سال کے دوران اگر آپ نے مسافرت میں کسی مقیم امام کی اقتدا میں نمازیں پڑھی ہیں تب تو آپ کی نمازیں بلا کسی کراہت کے ادا ہوگئی ہیں ؛ البتہ اگر انفراداً پڑھی ہیں تو نمازیں کراہت تحریمی کے ساتھ ادا ہوئیں، اب جبکہ وقت گزر چکا ہے تو ان کا لوٹا نا ضروری نہیں ہے ؛ ہاں لوٹا لینا اچھا ہے ۔

    من فارق بیوت موضع ہو فیہ من مصرأو قریة ناویا الذہاب إلی موضع بینہ وبین ذلک الموضع المسافة المذکورة صارمسافرا، فلایصیرمسافرا قبل أن یفارق عمران ما خرج منہ من الجانب الذی خرج منہ (کبیری:536،ط: اشرفی)

     ...وقد قدمنا أن الإعادة فعل مثلہ فی وقتہ لخلل غیرالفساد وعدم صحة الشروع، وظاہرہ أن بخروج الوقت لا إعادة ویتمکن الخلل فیہا مع أن قولہم کل صلاة أدیت مع الکراہة فسبیلہا الإعادة وجوبا مطلق وفی القنیة ما یفید التقیید بالوقت فإنہ قال إذا لم یتم رکوعہ ولا سجودہ یؤمر بالإعادة فی الوقت لا بعدہ ثم رقم رقما آخر أن الإعادة أولی فی الحالتین اہ.فعلی القولین لا وجوب بعد الوقت فالحاصل أن من ترک واجبا من واجباتہا أو ارتکب مکروہا تحریمیا لزمہ وجوبا أن یعید فی الوقت فإن خرج الوقت بلا إعادة أثم ولا یجب جبر النقصان بعد الوقت فلو فعل فہو أفضل (البحر الرائق شرح کنزالدقائق 2/ 142،ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند