• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 166523

    عنوان: مقتدی کی اگر نماز باقی ہے تو اسے امام کے سلام پھیرتے وقت کب اٹھنا چاھئے ؟

    سوال: میرا تعلق پاکستان سے ہے اور کام کے سلسلے میں قطر میں مقیم ہوں۔ یہاں پر سجدہ سہوکی صورت میں سلام پھیرنے سے پہلے ہی امام اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں جاتا ہے اور پھر سجدوں کے بعد فوراً طرفین میں سلام پھیرتاہے ۔ اس صورت میں اگر مقتدی کی ایک یا ایک سے زیادہ رکعتیں باقی ہیں تو کیا اس کو امام کی سلام پھیرنے کے ساتھ ہی قیام کیلئے اٹھنا چاہئے یا تب اٹھنا چاھئے جب امام دوسری طرف سلام پھیر رہا ہے (جس طرح کہ ہمارے ملکوں میں ہوتا ہے کہ مقتدی اپنی باقی رکعتوں کو پورا کرنے کیلئے تب اٹھتا ہے جب امام بائیں طرف سلام پھیر نا شروع کریں اور مقتدی کو یقین ہوجائیں کہ امام کا دائیں طرف سلام پھیرنا نماز سے نکلنے کیلئے تھا نہ کہ سجدہ سہو کیلئے )

    جواب نمبر: 166523

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:196-179/sd=3/1440

     مقتدی کو جب یقین ہوجائے کہ امام کا دوسرا سلام نماز سے نکلنے کے لیے ہے ، اُس وقت اسے اپنی چھوٹی ہوئی رکعات پڑھنے کے لیے کھڑا ہونا چاہیے ، پہلے سلام کے بعد یا دوسرا سلام شروع ہوتے ہیں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔

    قال الحصکفی : وَیَنْبَغِی أَنْ یَصْبِرَ حَتَّی یَفْہَمَ أَنَّہُ لَا سَہْوَ عَلَی الْإِمَامِ۔ قال ابن عابدین : (قَوْلُہُ وَیَنْبَغِی أَنْ یَصْبِرَ) أَیْ لَا یَقُومُ بَعْدَ التَّسْلِیمَةِ أَوْ التَّسْلِیمَتَیْنِ، بَلْ یَنْتَظِرُ فَرَاغَ الْإِمَامِ بَعْدَہُمَا کَمَا فِی الْفَیْضِ وَالْفَتْحِ وَالْبَحْرِ. ( شامی : ۵۹۷/۱، ط: دار الفکر، بیروت )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند