• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 166462

    عنوان: سیاہ خضاب کرنے والے کی امامت اور نماز کا حکم

    سوال: جناب میں ۰۵ سال کا ہوں، میرے بال سفید اور سیاہ رنگ ہیں، میں ان کو پرتو والی مہندی لگاتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ مسجدوں کے امام اپنے سفید بالوں کو سیاہ رنگتے ہیں تو کیا میری اور تمام لوگوں کی نمازِ ان کی امامت میں ہو جائے گی؟

    جواب نمبر: 166462

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:187-301/n=4/1440

    سر یا ڈاڑھی کے کم یا زیادہ سفید بالوں میں کالی مہندی کرنا، جس سے دیکھنے میں بال کالے معلوم ہوں اور لوگوں کو دھوکہ ہو، مکروہ تحریمی وناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے، پس جو امام سیاہ خضاب کرتا ہو، اس کی امامت بھی مکروہ ہوگی۔ اور اگر کوئی مقتدی سیاہ خضاب کرے گا تو اس کی بھی نماز مکروہ ہوگی؛ البتہ فریضہ ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ اور امام کی صورت میں ذمہ داران مسجد کو چاہیے کہ امام کو سیاہ خضاب سے منع کریں۔ اور اگر وہ سفید بالوں میں خضاب کرنا چاہتا ہے تو سرخ یا اس جیسے رنگ کا خضاب کرے، سیاہ خضاب ہرگز نہ کرے۔

    اور اب عام طور پر مہندی، پرتو والی نہیں ہوتی، یعنی: مہندی دھودینے کے بعد صرف رنگ رہ جاتا ہے، مہندی کی کوئی پرت باقی نہیں رہتی؛ اس لیے مہندی دھودینے کے بعد وضو اور غسل ہوجائے گا۔اور اگر کوئی مہندی ایسی ہو کہ دھونے کے بعد بھی اس کی پرت باقی رہتی ہواور اس کی وجہ سے بالوں تک پانی نہ پہنچتا ہو تو اس صورت میں وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا اور جب وضو اور غسل صحیح نہ ہوگا تو نماز بھی نہ ہوگی۔

    وأما الخضاب بالسواد الخالص فغیر جائز کما أخرجہ أبوداود والنسائي وابن حبان والحاکم وقال: صحیح الإسناد عن ابن عباسمرفوعاً: ”یکون قوم یخضبون فی آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام لایریحون رائحة الجنة“، … ومن ثم عد ابن حجر المکِي فی الزواجر الخضابَ بالسواد من الکبائر، ویوٴیدہ ما أخرجہ الطبراني عن أبی ا لدرداءمرفوعاً: من خضب بالسواد سود اللّٰہ وجہہ یوم القیامة“ (التعلیق الممجد، باب الخضاب، ص ۳۹۲)، فی شرح الحدیث المذکور أعلاہ فیما نقلناہ عن التعلیق الممجد: وفی الحدیث تہدید شدید في خضاب الشعر بالسواد، وہو مکروہ کراہة تحریم (بذل المجہود،باب ماجاء في خضاب السواد ۱۷: ۹۹،ط: دارالکتب العلمیة، بیروت)، ویکرہ- الخضاب- بالسواد، وقیل: لا، ومرّ فی الحظر (الدر المختار مع رد المحتار، مسائل شتی۱۰: ۴۸۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، أما بالحمرة فھو سنة الرجال وسیما المسلمین، منح (رد المحتار، ۱۰: ۴۸۷)، ومذھبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن کما فی الخانیة (المصدر السابق، ص۴۸۸، شرح المشارق للأکمل)، قال الحموي:وہذا فی حق غیر الغزاة، ولا یحرم في حقہم للإرہاب، ولعلہ محمل من فعل ذلک من الصحابة ط(المصدر السابق)، نیز احسن الفتاویٰ (۸:۳۵۶-۳۷۵)، فتاویٰ رشیدیہ (ص۴۸۹) ، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (۱۶: ۲۳۹-۲۴۵)، امداد الفتاوی (۴: ۲۱۸) اور اصلاح الرسوم (پانچویں فصل، ص ۲۵- ۲۷) وغیرہ دیکھیں۔

    والثالث -من شروط صحة الوضوء - زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد لجرمہ الحائل کشمع وشحم (مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، ص:۶۲،ط: دار الکتب العلمیة بیروت)،ولا یمنع الطہارة ونیم …وحناء ولو جرمہ ،بہ یفتی ودرن ووسخ…… وتراب وطین ولو في ظفر مطلقا… ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین أسنانہ أو في سنہ المجوف ، بہ یفتی ،وقیل:إن صلبا منع وہو الأصح۔(الدرالمختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، ۱: ۲۸۸، ۲۸۹)،قولہ:”بہ یفتی“:صرح بہ فی الخلاصة وقال: لأن الماء شیء لطیف یصل تحتہ غالباً اھ ،……ومفادہ عدم الجواز إذا علم أنہ لم یصل الماء تحتہ، قال فی الحلبة: وھو أثبت، قولہ:”إن صلباً“: ……أي إن کان ممضوغا مضغا متأکدا بحیث تداخلت أجزاوٴہ وصار لزوجة وعلاکة کالعجین، شرح المنیة،قولہ: ”وھو الأصح“:صرح بہ في شرح المنیة، وقال:لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورة والحرج اھ، ولا یخفی أن ھذا التصحیح لا یخالف ما قبلہ (رد المحتار) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند