• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 1657

    عنوان: اقامت کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت سے لکھا ہے کہ اقامت بیٹھ کر اور کھڑے ہوکر دونوں طرح سے سننا جائزہے۔ وقت کی مناسبت سے اگر تکبیر اولی فوت ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو تو بیٹھ کر سننا اور اگر نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو اور صفیں درست کرنے میں وقت لگ جائے تو پہلے صفیں بنالی جا ئیں اور پھر اقامت پڑھیں ۔ ہمارے گاؤں کی جامع مسجد میں اکثرنمازوں میں ایک یا دو صفیں جس میں ۱۵ سے ۲۰لوگ ہوتے ہیں جو آسانی سے پہلے ہی صفوں میں بیٹھ سکتے ہیں ،اس صورت میں مستحب اور افضل طریقہ کیا ہے؟ کیا ہم تکبیر بیٹھ کر سنیں یا پہلے اپنی صف بنا لیں اور پھر اقامت کہی جائے؟

    سوال: اقامت کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت سے لکھا ہے کہ اقامت بیٹھ کر اور کھڑے ہوکر دونوں طرح سے سننا جائزہے۔ وقت کی مناسبت سے اگر تکبیر اولی فوت ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو تو بیٹھ کر سننا اور اگر نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو اور صفیں درست کرنے میں وقت لگ جائے تو پہلے صفیں بنالی جا ئیں اور پھر اقامت پڑھیں ۔ ہمارے گاؤں کی جامع مسجد میں اکثرنمازوں میں ایک یا دو صفیں جس میں ۱۵ سے ۲۰لوگ ہوتے ہیں جو آسانی سے پہلے ہی صفوں میں بیٹھ سکتے ہیں ،اس صورت میں مستحب اور افضل طریقہ کیا ہے؟ کیا ہم تکبیر بیٹھ کر سنیں یا پہلے اپنی صف بنا لیں اور پھر اقامت کہی جائے؟

    جواب نمبر: 1657

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 630/ د= 620/ د

     

    آپ کے استفسار کا جواب یہ ہے کہ نہ تو پوری تکبیر بیٹھ کر سنیں اور نہ ہی پہلے صف بنالیں پھر اقامت کہنا شروع کیا جائے۔ بلکہ جب اقامت شروع کی جائے اسی وقت لوگ کھڑے ہوکر اپنی صفیں درست کرلیا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند