• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 163459

    عنوان: اگر كوئی زائد ركعت پڑھ لے تو كیا سجدہٴ بھی ادا كرے گا؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اگر کوئی شخص 4 کے بجائے 5 یا 3 بجائے 4 یا 2 بجائے 3 پڑھ لے تو پھر سجدہ سہو بھی ادا کرے تو کیا اس کی نماز درست ہے یا لوٹا نی ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 16345901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1304-1116/D=11/1439

    اگر دو اور چار رکعت پر قعدہ نہیں کیا اور اٹھ گیا تو زائد رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے اگر لوٹ آئے اور سجدہٴ سہو کرلے تو نماز درست ہوجائے گی اور اگر زائد رکعت کا سجدہ کرلیا تو اس کا فرض باطل ہوگیا اب چاہے تو نفل پوری کرلے۔

    اور اگر نفل نماز ہے تو اس کا شفعہ (یعنی دو رکعت) باطل ہوگیا اگلا شفعہ (دو رکعت) ادا کرلے گا تو وہ (اگلا شفعہ صحیح ہوجائے گا۔

    اور اگر دو رکعت یا چار رکعت پر قعدہ کیا تھا تو تیسری اور پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے فرض باطل نہ ہوگا بلکہ سجدہٴ سہو کرنے سے نماز صحیح ہوجائے گی اسی طرح نماز بھی درست ہوجائے گی۔

    ----------------------------------

    جواب درست اور اخیر صورت میں بہتر ہے کہ مزید ایک رکعت ملالیا جائے تو دو رکعتیں نفل ہوجائیں۔ (ل)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند